پاکستان کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف دوٹوک، ابراہام اکارڈز سے جوڑنے کا تاثر غلط

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کا روز اول سے فلسیطن کے حوالے سے دوٹوک مؤقف ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابراہام اکارڈز سے متعلق حالیہ بیان اپنی جگہ لیکن امریکا ایران سفارتکاری کے تناظر میں ریاست پاکستان کے اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے متعلق جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کو ایک وسیع جغرافیائی و سیاسی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کا مرکز ابراہام اکارڈز اور امریکا کی قیادت میں علاقائی سلامتی کا نیا نظام ہے۔

پاکستان کا فلسطین اور اسرائیل پر اصولی مؤقف

پاکستان کا فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے مؤقف دیرینہ، واضح اور اصولی ہے، جو کسی تجارتی یا وقتی مفاد کے بجائے بین الاقوامی قانون، تاریخی حقائق اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔

فلسطینی ریاست کے قیام پر پاکستان کا مؤقف

پاکستان کا مؤقف تاریخی، آئینی اور اصولی بنیادوں پر قائم ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑا ہوا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اس مؤقف کو ایران امریکا کشیدگی سے پیدا ہونے والی سفارت کاری کے تناظر میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ابراہام اکارڈز سے پاکستان کو جوڑنے کا تاثر

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو ابراہام اکارڈز سے متعلق بحث میں شامل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم دنیا امریکا کی قیادت میں بننے والے علاقائی نظام پر متفق ہے، جو ایک حد تک سفارتی بیانیے کی تشکیل بھی ہے۔

پاکستان کا سفارتی کردار اور حالیہ کشیدگی میں اہمیت

پاکستان کے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کے کردار کو دونوں فریقوں نے تسلیم کیا ہے، جس سے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے مطالبے پر عملدرآمد کا پابند نہیں اور ایران امن معاہدے کو ابراہام اکارڈز سے جوڑنا درست نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان میں اختیار کیا گیا مؤقف یا مکمل معاہدہ یا کوئی نہیں کو ایک دباؤ پر مبنی سفارتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد وسیع سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ہو سکتا ہے یا یہ اندرونی امریکی سیاست سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری تنازعات کے فوری حل کو سیاسی بیانیے میں تبدیل کرنا امریکا کے داخلی یا دیگر مقاصد کے لیے اہم ہو سکتا ہے، تاہم دونوں معاملات آپس میں براہ راست منسلک نہیں اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا مناسب نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش، معاملے کے پرامن حل کے لیے شہباز شریف سے ملاقات کا فیصلہ

امریکی جاسوسی قانون میں توسیع کی ڈیڈ لائن قریب، انٹیلیجنس ڈیٹا جمع کرنے میں بڑے تعطل کا انتباہ جاری

آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے گرد گھیرا تنگ، مرکزی دفتر سیل کردیا گیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھلنے لگی، بھارت کے ساتھ تعلق ثابت، عام آدمی کو استعمال کیا جانے لگا

یوکرین کا چرنوبل کے قریب جوہری ایندھن کے اسٹوریج پر روسی ڈرون حملے کا دعویٰ

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے

لائیوگلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ