پاکستان کا روز اول سے فلسیطن کے حوالے سے دوٹوک مؤقف ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابراہام اکارڈز سے متعلق حالیہ بیان اپنی جگہ لیکن امریکا ایران سفارتکاری کے تناظر میں ریاست پاکستان کے اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے متعلق جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کو ایک وسیع جغرافیائی و سیاسی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کا مرکز ابراہام اکارڈز اور امریکا کی قیادت میں علاقائی سلامتی کا نیا نظام ہے۔
پاکستان کا فلسطین اور اسرائیل پر اصولی مؤقف
پاکستان کا فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے مؤقف دیرینہ، واضح اور اصولی ہے، جو کسی تجارتی یا وقتی مفاد کے بجائے بین الاقوامی قانون، تاریخی حقائق اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔
فلسطینی ریاست کے قیام پر پاکستان کا مؤقف
پاکستان کا مؤقف تاریخی، آئینی اور اصولی بنیادوں پر قائم ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑا ہوا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اس مؤقف کو ایران امریکا کشیدگی سے پیدا ہونے والی سفارت کاری کے تناظر میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ابراہام اکارڈز سے پاکستان کو جوڑنے کا تاثر
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو ابراہام اکارڈز سے متعلق بحث میں شامل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم دنیا امریکا کی قیادت میں بننے والے علاقائی نظام پر متفق ہے، جو ایک حد تک سفارتی بیانیے کی تشکیل بھی ہے۔
پاکستان کا سفارتی کردار اور حالیہ کشیدگی میں اہمیت
پاکستان کے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کے کردار کو دونوں فریقوں نے تسلیم کیا ہے، جس سے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے مطالبے پر عملدرآمد کا پابند نہیں اور ایران امن معاہدے کو ابراہام اکارڈز سے جوڑنا درست نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان میں اختیار کیا گیا مؤقف یا مکمل معاہدہ یا کوئی نہیں کو ایک دباؤ پر مبنی سفارتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد وسیع سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ہو سکتا ہے یا یہ اندرونی امریکی سیاست سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری تنازعات کے فوری حل کو سیاسی بیانیے میں تبدیل کرنا امریکا کے داخلی یا دیگر مقاصد کے لیے اہم ہو سکتا ہے، تاہم دونوں معاملات آپس میں براہ راست منسلک نہیں اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا مناسب نہیں۔














