جنوبی لبنان میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے ساحلی شہر صور اور اس کے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور فضائی حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے، 31 افراد جاں بحق، زمینی کارروائی کا اسرائیلی دعویٰ
اسرائیلی فوج کے مطابق صور اور آس پاس کے علاقوں میں جلد فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا مقصد ان کے مطابق حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل کر دریائے زہرانی کے شمال کی طرف منتقل ہو جائیں۔
فوجی ترجمان نے بعض علاقوں کو ’خطرناک زون‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں نقل و حرکت انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان احکامات کے بعد ہزاروں افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
Smoke billows following an Israeli strike on Lebanon’s southern city of Nabatieh and surrounding areas.#Lebanon pic.twitter.com/9cqekxK47R
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 27, 2026
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق انخلا کے حکم میں صور شہر کے بڑے حصے اور قریبی دیہات شامل ہیں، جہاں پہلے ہی خوف کی فضا موجود ہے۔
اسی دوران جنوبی اور مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے بھی جاری ہیں، جن میں گھروں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایک لبنانی فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعدد دیہات شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
#WATCH: Smoke billows as Israeli strikes hit #Lebanon's southern city of #Nabatieh and its surrounding areas. #Israel this week vowed to intensify operations in Lebanon against #Hezbollah https://t.co/evbzt3tU2f pic.twitter.com/XsJKXuEsyF
— Arab News (@arabnews) May 27, 2026
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں ایک سیکیورٹی زون قائم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے اور زمینی دستے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔
ادھر حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں جھڑپیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
مجموعی طور پر جنوبی لبنان میں حالات انتہائی غیر مستحکم ہیں اور انخلا کے احکامات، فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں نے بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔














