اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

بدھ 27 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی لبنان میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے ساحلی شہر صور اور اس کے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور فضائی حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے، 31 افراد جاں بحق، زمینی کارروائی کا اسرائیلی دعویٰ

اسرائیلی فوج کے مطابق صور اور آس پاس کے علاقوں میں جلد فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا مقصد ان کے مطابق حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل کر دریائے زہرانی کے شمال کی طرف منتقل ہو جائیں۔

فوجی ترجمان نے بعض علاقوں کو ’خطرناک زون‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں نقل و حرکت انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ ان احکامات کے بعد ہزاروں افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق انخلا کے حکم میں صور شہر کے بڑے حصے اور قریبی دیہات شامل ہیں، جہاں پہلے ہی خوف کی فضا موجود ہے۔

اسی دوران جنوبی اور مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے بھی جاری ہیں، جن میں گھروں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایک لبنانی فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعدد دیہات شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں ایک سیکیورٹی زون قائم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے اور زمینی دستے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں جھڑپیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

مجموعی طور پر جنوبی لبنان میں حالات انتہائی غیر مستحکم ہیں اور انخلا کے احکامات، فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں نے بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp