امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، اہم فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج نے ایران میں ایک نئی کارروائی کرتے ہوئے ایسی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال تھا کہ وہ خلیج میں موجود امریکی افواج اور آبنائے ہرمز سے

گزرنے والی تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرایا جو اسی نوعیت کا خطرہ سمجھے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

یہ امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، 3 ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 28 فروری کو امریکا اور

اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز

میں بحری آمد و رفت کا انتظام سنبھالیں گے، ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ کھلی رہے گی۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکا نے ایران کے خلاف ایسے حملے کیے تھے جنہیں واشنگٹن نے ‘دفاعی کارروائیاں’ قرار دیا، جبکہ ایران نے انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی کہا تھا۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان یعنی سینٹکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ان کشتیوں اور میزائل لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی افواج کے لیے خطرہ بن رہے تھے اور جن کے ذریعے

سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp