امریکی فوج نے ایران میں ایک نئی کارروائی کرتے ہوئے ایسی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال تھا کہ وہ خلیج میں موجود امریکی افواج اور آبنائے ہرمز سے
گزرنے والی تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرایا جو اسی نوعیت کا خطرہ سمجھے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس
یہ امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، 3 ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 28 فروری کو امریکا اور
اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز
🚨 IT'S OFFICIAL: Iran has just been STRUCK by the US military, 4 Iranian drones were blown up and a military site was BOMBED before it could send off another one
The defensive strikes are "intended to MAINTAIN the ceasefire." 🇺🇸
Iran reported explosions in Bandar Abbas.
The… pic.twitter.com/DXAPqLBmwg
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) May 28, 2026
میں بحری آمد و رفت کا انتظام سنبھالیں گے، ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ کھلی رہے گی۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکا نے ایران کے خلاف ایسے حملے کیے تھے جنہیں واشنگٹن نے ‘دفاعی کارروائیاں’ قرار دیا، جبکہ ایران نے انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی کہا تھا۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان یعنی سینٹکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ان کشتیوں اور میزائل لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی افواج کے لیے خطرہ بن رہے تھے اور جن کے ذریعے
سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔













