روس کا مصنوعی ذہانت میں عالمی تعاون بڑھانے کا اعلان

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ولادیمیر پیوٹن نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا عالمی منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد اے آئی سسٹمز

اور مشترکہ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر کی ترقی ہے۔

جمعرات کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ یوریشین اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس نے مختلف ممالک کی سائنسی، تعلیمی اور کاروباری برادریوں کو

یکجا کرتے ہوئے ایک عالمی اے آئی اتحاد کے قیام میں مدد دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ مواد پر امریکی اکثریت کا بھروسہ

انہوں نے آئندہ سال روس میں مصنوعی ذہانت پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی اجلاس کی تجویز بھی پیش کی۔

پیوٹن کے مطابق اس اجلاس میں خودمختار اے آئی ماڈلز کی تیاری، مربوط کمپیوٹنگ اور توانائی کے انفرااسٹرکچر کی تشکیل، اور مقامی ضروریات کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کی تطبیق پر تعاون پر

توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی مسابقت، اقتصادی ترقی اور پیش رفت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی کمپنیاں اس میدان میں برتری حاصل

کرنے کے لیے مقابلے میں مصروف ہیں۔

روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ روس کو اس شعبے میں کئی برتریاں حاصل ہیں، جن میں سائنسی مہارت، مضبوط تعلیمی نظام اور وسیع توانائی وسائل شامل ہیں، جو بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ سسٹمز اور

ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے، اور روس کے پاس جوہری توانائی، پن بجلی اور روایتی توانائی کے وافر ذرائع موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خودمختار ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، اور روس ان چند ممالک میں شامل ہے جو اپنے اے آئی سسٹمز آزادانہ طور پر تیار کرنے اور اس

شعبے میں بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک روس کی مختلف ٹیکنالوجیز سمیت مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال پر مشاورت

تاہم، پیوٹن نے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسائل اور مہارتوں کو یکجا کر کے نمایاں اقتصادی اور تکنیکی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

روسی صدر نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں لیبر مارکیٹ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گی، جبکہ آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث لاکھوں افراد کو اپنے پیشے تبدیل کرنا پڑ

سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل ناقابل واپسی اور ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: مائیکروسافٹ کی مصنوعی ذہانت میں حیرت انگیز ایجاد، ساکت تصویر کو بھی حرکت دیدی

روس کی کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی مقامی اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، جن میں ٹیکنالوجی کمپنی ینڈیکس اور ملک کا سب سے بڑا بینک سبربینک شامل ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے طاس کے مطابق یانڈیکس کے بی ٹو بی ٹیک ڈویژن نے حال ہی میں ایلس اے اآئی ایل ایل ایم فلیش نامی ایک نیا لینگویج ماڈل متعارف کرایا ہے، جو تیز رفتار مکالمے اور ڈیٹا

تجزیے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اس ماڈل نے کاروباری نوعیت کے 56 فیصد بینچ مارک ٹاسکس میں اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 5.4 منی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں