ولادیمیر پیوٹن نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا عالمی منصوبہ متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد اے آئی سسٹمز
اور مشترکہ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر کی ترقی ہے۔
جمعرات کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ یوریشین اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس نے مختلف ممالک کی سائنسی، تعلیمی اور کاروباری برادریوں کو
یکجا کرتے ہوئے ایک عالمی اے آئی اتحاد کے قیام میں مدد دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ مواد پر امریکی اکثریت کا بھروسہ
انہوں نے آئندہ سال روس میں مصنوعی ذہانت پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی اجلاس کی تجویز بھی پیش کی۔
پیوٹن کے مطابق اس اجلاس میں خودمختار اے آئی ماڈلز کی تیاری، مربوط کمپیوٹنگ اور توانائی کے انفرااسٹرکچر کی تشکیل، اور مقامی ضروریات کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کی تطبیق پر تعاون پر
توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی مسابقت، اقتصادی ترقی اور پیش رفت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی کمپنیاں اس میدان میں برتری حاصل
کرنے کے لیے مقابلے میں مصروف ہیں۔
Putin announces international AI alliance to combat the US lead.
The initiative will unite leading business and scientific minds from multiple countries, the Russian president has said.
Russian Company Yandex recently unveiled Alice AI LLM Flash, a large language model… pic.twitter.com/b4Y5WYFYab
— Alternative News (@AlternatNews) May 29, 2026
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ روس کو اس شعبے میں کئی برتریاں حاصل ہیں، جن میں سائنسی مہارت، مضبوط تعلیمی نظام اور وسیع توانائی وسائل شامل ہیں، جو بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ سسٹمز اور
ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے، اور روس کے پاس جوہری توانائی، پن بجلی اور روایتی توانائی کے وافر ذرائع موجود ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خودمختار ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، اور روس ان چند ممالک میں شامل ہے جو اپنے اے آئی سسٹمز آزادانہ طور پر تیار کرنے اور اس
شعبے میں بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاک روس کی مختلف ٹیکنالوجیز سمیت مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال پر مشاورت
تاہم، پیوٹن نے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسائل اور مہارتوں کو یکجا کر کے نمایاں اقتصادی اور تکنیکی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
روسی صدر نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں لیبر مارکیٹ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گی، جبکہ آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث لاکھوں افراد کو اپنے پیشے تبدیل کرنا پڑ
سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل ناقابل واپسی اور ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: مائیکروسافٹ کی مصنوعی ذہانت میں حیرت انگیز ایجاد، ساکت تصویر کو بھی حرکت دیدی
روس کی کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی مقامی اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، جن میں ٹیکنالوجی کمپنی ینڈیکس اور ملک کا سب سے بڑا بینک سبربینک شامل ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے طاس کے مطابق یانڈیکس کے بی ٹو بی ٹیک ڈویژن نے حال ہی میں ایلس اے اآئی ایل ایل ایم فلیش نامی ایک نیا لینگویج ماڈل متعارف کرایا ہے، جو تیز رفتار مکالمے اور ڈیٹا
تجزیے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اس ماڈل نے کاروباری نوعیت کے 56 فیصد بینچ مارک ٹاسکس میں اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 5.4 منی کو پیچھے چھوڑ دیا۔












