چیٹ بوٹس کی غلط معلومات کی روک تھام میں پیشرفت، مصنوعی ذہانت ’مجھے نہیں معلوم‘ کہنا سیکھ گئی

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا کے محققین نے ایک نیا تربیتی طریقہ متعارف کرایا ہے جس کی مدد سے مصنوعی ذہانت یا اے آئی ایسے موضوعات پر غلط جواب دینے کے بجائے اپنی لاعلمی کا اعتراف کر سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ

یہ پیشرفت چیٹ بوٹس کی جانب سے غلط یا من گھڑت معلومات دینے کے بڑھتے ہوئے مسئلے، جسے ’ہیلوسینیشن‘ کہا جاتا ہے کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

موجودہ اے آئی ماڈلز اکثر پراعتماد انداز میں غلط معلومات پیش کرتے ہیں کیونکہ انہیں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے خواہ درست معلومات موجود نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی کی یہی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی خودکار گاڑیوں اور طبی تشخیص جیسے حساس شعبوں میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جہاں غلط مگر پراعتماد جواب سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

محققین نے اس مسئلے کے حل کے لیے ’وارم اَپ ٹریننگ‘ نامی نئی تکنیک تیار کی جو انسانی دماغ کی ابتدائی نشوونما سے متاثر ہے۔ اس طریقے میں اے آئی کے نیورل نیٹ ورک کو اصل معلومات سکھانے سے پہلے بے ترتیب سگنلز اور شور سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے انسانی دماغ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ دماغ بیرونی معلومات کے بغیر بھی اندرونی سگنلز کیسے پیدا کرتا ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔

محققین کا کہنا ہے کہ روایتی اے آئی ماڈلز ان معلومات پر بھی پراعتماد مگر غلط جواب دیتے ہیں جن پر انہیں تربیت نہیں دی گئی ہوتی، جبکہ ’وارم اَپ ٹریننگ‘ والے ماڈلز نے اپنی لاعلمی کو پہچاننے اور اعتماد کی سطح کم رکھنے میں نمایاں بہتری دکھائی۔

مزید پڑھیں: اے آئی کو جھانسا: آنکھوں کی ایک فرضی بیماری کو حقیقی سمجھ کر چیٹ بوٹس طبی مشورے دینا شروع

ان کے مطابق اس طریقے کا مقصد اے آئی کو ابتدائی طور پر یہ احساس دینا ہے کہ ’مجھے ابھی کچھ معلوم نہیں‘ تاکہ اس میں غیر ضروری خود اعتمادی پیدا نہ ہو۔

نیچر مشین انٹیلی جنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے شریک مصنف سی بُم پائیک نے کہا کہ یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی دماغ کی نشوونما کے اصولوں کو اپنانے سے اے آئی اپنی معلومات اور لاعلمی کو انسانوں کی طرح بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’ٹیکن فار گرانٹڈ‘ والا معاملہ اے آئی میں بھی؟ زیادہ دوستانہ چیٹ بوٹس کم قابل بھروسا، نئی تحقیق

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشرفت اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے اے آئی نہ صرف درست جواب دینے میں بہتر ہوگی بلکہ یہ بھی پہچان سکے گی کہ کب وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے یا غلطی کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp