روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی کسی کے خلاف نہیں۔
چین کے دورے سے قبل جاری ایک ویڈیو پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین سیاست، معیشت، دفاع اور انسانی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان، اہم ملاقاتیں شیڈول
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام پر مبنی ہیں۔
روسی صدر نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا۔
Ahead of Russian President Vladimir Putin’s upcoming visit to China, Beijing has said that President Xi Jinping will use the occasion to discuss further bilateral ties between the two nations.#China #XiJinping #Putin #Russia pic.twitter.com/vgMViUFb3z
— CGTN Europe (@CGTNEurope) May 18, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ 25 برس قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون‘ کے بعد روس اور چین نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے۔
انہوں نے اقتصادی تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور زیادہ تر لین دین اب روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سرگئی لاوروف کا دورہ بیجنگ، روس چین شراکت داری مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ
روسی صدر نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ ماسکو چین کی تاریخ اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور انسانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔













