ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کے شکار براہ راست مذاکرات کی بحالی اور مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے جاری ہیں۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے۔
مزید پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
ایک ورچوئل پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے والے قالیباف نے کہا کہ ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں
رپورٹس کے مطابق تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔














