اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹوئٹس کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیس کی سماعت 4 جون تک ملتوی کر دی گئی۔
سماعت جسٹس محمد اعظم خان نے کی، تاہم اسپیشل پراسیکیوشن ٹیم کی عدم دستیابی کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
عدالت کو بتایا گیا کہ پراسیکیوشن ٹیم کے 3 ارکان تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے ایک لاہور سے آنا ہے جبکہ دوسرا اس وقت کورٹ ون میں مصروف ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پتا ہے اس کیس میں سپریم کورٹ کا آرڈر ہے؟
دورانِ سماعت وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے وقت کی مدت ختم ہو چکی ہے، جبکہ درخواستیں بھی سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں دائر کی گئی ہیں۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے ہم سب پابند ہیں۔ انہوں نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیس کب سنا جا سکتا ہے، جس پر پراسیکیوشن کی جانب سے جمعرات یا آئندہ پیر کی تاریخ کی استدعا کی گئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوٹر جب کورٹ ون سے فارغ ہوں تو کیس سنا جائے، تاہم مزید تاخیر پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔
وکیل فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ پراسیکیوشن کو پابند کیا جائے کہ مزید التوا نہ مانگے، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے کارروائی آئندہ تاریخ کے لیے مقرر کر دی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
یاد رہے کہ 24 جنوری 2026 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے مختلف سیکشنز کے تحت دونوں ملزمان پر قید اور جرمانے عائد کیے تھے، جبکہ بعض دفعات کے تحت بریت بھی دی گئی تھی۔














