پناہ گزینوں کی عمر جانچنے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں امیگریشن نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آ رہی ہے اور اسی سلسلے میں برطانیہ نے پناہ گزینوں کی عمر کے تعین کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کو ایک اور جھٹکا، برطانیہ کے مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغان حکومت سے رابطے

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق آئندہ سال سے ایک جدید اے آئی سسٹم آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے گا جو سرحد پر لی گئی تصاویر کا تجزیہ کرکے کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے بالغ تارکین وطن کی نشاندہی کرنا ہے جو خود کو کم عمر ظاہر کرکے پناہ کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانیہ میں بغیر سرپرست آنے والے کم عمر پناہ گزین بچوں کو مقامی کونسلز کی جانب سے خصوصی رہائش اور نگہداشت فراہم کی جاتی ہے جبکہ انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے جو ان کی پناہ کی درخواست کو آسان بناتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ برسوں میں انگلش چینل کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ، امدادی فنڈز میں نمایاں کمی سے بحران شدت اختیار کر گیا

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک ایک سال کے دوران ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق مارچ 2026 تک ایک سال کے دوران خود کو کم عمر ظاہر کرنے والے 6 ہزار 400 سے زائد تارکین وطن کی عمر کا تعین کیا گیا جن میں سے 43 فیصد بالغ نکلے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کو ابتدائی طور پر ڈوور کے ویسٹرن جیٹ فوائل پروسیسنگ سینٹر میں آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے گا جبکہ اسے سنہ 2027 کے وسط تک مکمل طور پر نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر 3 برسوں میں 3 لاکھ 22 ہزار پاؤنڈ لاگت آئے گی۔

وزیر برائے بارڈر سیکیورٹی و پناہ الیکس نورس نے کہا کہ نئی اے آئی ٹیکنالوجی ایسے افراد کی فوری شناخت میں مدد دے گی جو نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں، تاکہ حقیقی ضرورت مند بچوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی قطر میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کو کانگو منتقل کرنے کی تجویز

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر آزمودہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم عمر پناہ گزین بچوں کے حقوق متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتائج غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

متنازع کشن گنگا منصوبے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، بھارت کے اقدامات پر سنگین سوالات

پاکستان میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

الیکٹرک گاڑیوں و متعلقہ ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے، عالمی کار ساز کمپنیاں سخت دباؤ کا شکار

نواز شریف گلگت بلتستان میں جلسوں سے خطاب کریں گے، انتخابی مہم چلانے کی اجازت مل گئی

آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش، محکمہ موسمیات نے گرمی سے تنگ شہریوں کو خوشخبری سنا دی

ویڈیو

پاکستان ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

جنگلی حیات پر تحقیق اور آگاہی کے لیے سرگرم نوجوان جوڑے کی کہانی

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک