بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ، امدادی فنڈز میں نمایاں کمی سے بحران شدت اختیار کر گیا

جمعرات 21 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، تاہم اس کے برعکس بین الاقوامی انسانی امداد کے فنڈز میں نمایاں کمی نے کیمپوں میں موجود لاکھوں افراد کے لیے صورتحال مزید تشویشناک بنا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی وزیرتعلیم کا کاکس بازار میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپ کا دورہ، بچوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور

بنگلہ دیش میں 2017 میں میانمار میں فوجی کارروائی کے بعد تقریباً 8 لاکھ روہنگیا پناہ گزین موجود تھے، تاہم اقوام متحدہ کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق یہ تعداد اب بڑھ کر تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کوکس بازار کے کیمپوں میں ہر سال تقریباً 30 ہزار بچے پیدا ہو رہے ہیں، جس سے آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

2026 کے لیے مشترکہ ردعمل منصوبے کے تحت 71 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد کی درخواست کی گئی ہے، جو 2025 کے مقابلے میں 26 فیصد کم ہے، جب یہ رقم 85 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ امدادی اداروں کے مطابق اس وقت تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار افراد کو امداد کی ضرورت ہے، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار انتہائی کمزور افراد مجوزہ امدادی دائرہ کار سے باہر رہ سکتے ہیں۔

ڈھاکہ میں اقوام متحدہ کے دفتر میں بدھ کے روز منعقدہ اجلاس کے دوران 2026 کا امدادی منصوبہ باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر قائم مقام سیکرٹری خارجہ ایم فرہاد الاسلام، یو این ایچ سی آر کی نائب ہائی کمشنر کیلی کلیمنٹس، ورلڈ فوڈ پروگرام کی اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانیہ ڈگاش-کامارا اور اقوام متحدہ کے قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کیرول فلور موجود تھے۔

کوکس بازار میں پناہ گزین پلیٹ فارم کے سربراہ ڈیوڈ بگڈن کے مطابق مجموعی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ، تقریباً 25 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، خوراک کی فراہمی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے ایک بار پھر روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر عالمی تعاون کی اپیل کردی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندے ایوو فریجسن نے بتایا کہ اپریل تک جاری سال کے لیے مطلوبہ انسانی امداد کا صرف 63 فیصد حصہ ہی حاصل ہو سکا ہے، جس سے پناہ گزینوں اور مقامی آبادی دونوں کے لیے خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تدفین کے بعد ’مُردے‘ کی اچانک گھر واپسی، گاؤں میں خوف اور خوشی کی لہر

سعودی عرب کا شمالی سرحدی علاقہ لائیو اسٹاک کا بڑا مرکز بن گیا، غذائی تحفظ کے مشن میں اہم پیشرفت

بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کی اسٹریٹجیک کامیابیاں ہضم نہیں ہورہیں، ایکس سروس مین سوسائٹی

بھارت نے سلال ڈیم کھول دیا، دریائے چناب میں سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری

جدہ میں گرینڈ حج سمپوزیم، دنیا بھر سے وزرائے مذہبی امور اور حج وفود کی شرکت

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟