امریکا کی قطر میں پھنسے افغان پناہ گزینوں کو کانگو منتقل کرنے کی تجویز

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی انتظامیہ کانگو کے حکام کے ساتھ قطر میں پھنسے ہوئے تقریباً 1,100 افغان شہریوں کی وہاں آباد کاری کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔

یہ معلومات ایک وکالتی تنظیم کی جانب سے سامنے آئی ہے جو امریکی ویزوں کے انتظار میں دوحہ میں پھنسے افغان شہریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ مذاکرات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان کے بعد افغانستان سے فرار ہونے والے افراد کو درپیش قانونی مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ’غلط حراست‘ بلیک لسٹ میں ایران کے بعد افغانستان بھی شامل

کیونکہ افغان شہریوں کے لیے امریکی امیگریشن ویزا پروسیسنگ عملاً روک دی گئی ہے۔

اس تعطل کے باعث یہ افراد کابل سے امریکی انخلا کے 4 سال بعد بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

افغان ایویک نامی اتحاد کے بانی اور صدر شان وان ڈیور کے مطابق امریکی حکام نے انہیں اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

ان کے مطابق ان افغانوں کو کانگو میں آباد کرنے کی تجویز ناقابلِ قبول ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہاں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہے۔

یہ افغان شہری اس وقت قطر کے ایک سابق امریکی فوجی اڈے  میں مقیم ہیں، جہاں انہیں امریکی امیگریشن ویزا کے عمل کی تکمیل کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔

ان میں سے کچھ افراد امریکی شہریوں کے رشتہ دار ہیں یا انہوں نے 20 سالہ جنگ کے دوران امریکی امداد یافتہ اداروں کے ساتھ کام کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے افغانستان کو مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں والا ملک قرار دینے کی تجویز دے دی

تاہم یہ عمل اس وقت رک گیا جب جنوری 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا۔

گزشتہ جون میں افغانستان کو 12 ممالک کی اس فہرست میں شامل کیا گیا جن پر سفری پابندیاں لگائی گئیں، اگرچہ امریکی فوج اور سفارت کاروں کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے لیے خصوصی استثنیٰ رکھا گیا تھا۔

نومبر میں واشنگٹن نے تمام افغان شہریوں کے لیے امیگریشن ویزا پروسیسنگ مکمل طور پر روک دی، جس کی وجہ ایک سابق افغان اہلکار کی جانب سے امریکی نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ بتایا گیا۔

فروری میں ایک امریکی وفاقی جج نے قرار دیا کہ افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ پر پابندی غیر قانونی ہے، تاہم عملی طور پر یہ عمل اب بھی تقریباً معطل ہے۔

افغان ایویک کے مطابق ان 1,100 افراد کی پہلے ہی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ افغانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنا ایک مثبت حل ہو سکتا ہے، جس سے انہیں افغانستان سے باہر نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملے گا،

مزید پڑھیں:امریکا میں ایک اور افغان شہری گرفتار، داعش کی حمایت کا الزام

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کانگو زیر غور ممالک میں شامل ہے یا نہیں، دوسری جانگ کانگو کی حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

افغان ایویک کے مطابق کانگو میں طویل عرصے سے جاری تنازعات اور مشرقی علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث امکان کم ہے کہ افغان اس ملک میں آبادکاری قبول کریں گے۔

وان ڈیور نے کہا کہ اگر وہ انکار کریں تو امریکا اسے بنیاد بنا کر انہیں افغانستان واپس بھیج سکتا ہے، جو ان کے مطابق خطرناک ہوگا۔

مزید پڑھیں:امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ ممکنہ طور پر ان افراد سے ’جان چھڑانے‘ کی کوشش ہے، جن میں خواتین، بچے اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ان افغانوں کو بوٹسوانا میں آباد کرنے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن وہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکا نے ایک نیا شرط عائد کی تھی کہ ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد کو 15 ہزار ڈالر کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار