پاکستان میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مہنگائی کی شرح مئی 2026 کے دوران تقریباً 2 سال (23 ماہ) کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے ملکی معیشت میں قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور نئے مالی سال کے آغاز سے قبل شدید اقتصادی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ماہانہ رپورٹ کے مطابق، مئی میں مہنگائی کی شرح میں اپریل کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر 0.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ جون 2024 کے بعد ملک میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے۔

سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.66 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ سال اسی ماہ (مئی 2025) میں ریکارڈ کی گئی ’3.5 فیصد‘ کی شرح کے مقابلے میں ایک بڑا اور نمایاں اضافہ ہے۔

یہ شرح اپریل 2026 کی ’10.89 فیصد‘ سالانہ مہنگائی سے بھی زیادہ ہے، جو اشیائے صرف کی قیمتوں میں مسلسل اور بے قابو اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 11 مہینوں (جولائی 2025 سے مئی 2026 تک) کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 6.69 فیصد رہی۔

شہری اور دیہی علاقوں کے تقابلی اعداد و شمار

اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کے اثرات ملکی تاریخ کے روایتی رجحانات کے برعکس شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں یکساں شدت سے محسوس کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی میں 0.30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شہری علاقوں میں یہ اضافہ 0.68 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح، سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11.79 فیصد رہی۔

یہ تقابل ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے اثرات کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں یکساں طور پر پھیل چکے ہیں۔ اس مسلسل اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی سروسز (بجلی، گیس) سمیت تمام ضروری اشیا و خدمات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

مہنگائی میں اچانک اضافے کی وجوہات

اگر ملکی معیشت کے گزشتہ چند ماہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مہنگائی میں یہ اچانک تیزی کسی ایک عنصر کا نتیجہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال مئی 2025 میں ‘3.5 فیصد’ کی کم ترین سطح کی بڑی وجہ ’بیس ایفیکٹ‘ اور عارضی طور پر قیمتوں کا استحکام تھا۔

تاہم پچھلے چند ماہ کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مقامی سطح پر بجلی اور گیس کے ٹیرف میں آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مسلسل ترامیم اور سپلائی چین کے مسائل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

نئے مالی سال 27-2026کے بجٹ کی آمد آمد ہے اور اس سے قبل پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ اضافے کی افواہوں اور نئے ٹیکسز کے خوف نے بھی مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں قبل از وقت اضافے کے رجحان کو فروغ دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر مئی کے اعداد و شمار پر نظر آ رہا ہے۔

حکومت اور عوام کے لیے آگے کیا چیلنجز ہیں؟

واضح رہے کہ معاشی ماہرین اس رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ حکومت اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ اور مالیاتی پالیسیوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

عوامی ردعمل اور بجٹ پر دباؤ

تازہ اعداد و شمار کے بعد حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور بجٹ حکمتِ عملی پر عوامی اور سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت پر ’مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکامی‘ کا الزام لگایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بجٹ میں سخت فیصلے کرنا حکومت کے لیے سیاسی طور پر مزید مشکل ہو جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا چیلنج

مہنگائی کے 11.66 فیصد پر پہنچنے کے بعد اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے سود کی شرح میں کمی کا فیصلہ کرنا کڑا امتحان ہوگا۔ اگر مرکزی بینک مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود کو برقرار رکھتا ہے یا بڑھاتا ہے، تو اس سے کاروباری سرگرمیاں سست ہوں گی اور اگر کمی کرتا ہے تو مہنگائی کا جن مزید بے قابو ہو سکتا ہے۔

ترقی اور استحکام کا توازن

واضح رہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کا یہ رجحان اقتصادی منصوبہ بندی، صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرتا رہے گا۔ حکام کو ایک طرف معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ہے اور دوسری طرف قیمتوں میں استحکام لانا ہے، ان دونوں کے درمیان ’ توازن‘قائم رکھنا موجودہ اقتصادی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے بلا تنخواہ کام لینے پر پابندی، سی پی ایس پی کا انتباہ

بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

پاکستان کے معدنی وسائل عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز، بلوچستان کا امن فیصلہ کن قرار

فلپائن میں پراسرار روشنی: یو ایف او یا کچھ اور، ہارورڈ پروفیسر نے کیا بتایا؟

متنازع کشن گنگا منصوبے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، بھارت کے اقدامات پر سنگین سوالات

ویڈیو

پاکستان ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

جنگلی حیات پر تحقیق اور آگاہی کے لیے سرگرم نوجوان جوڑے کی کہانی

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک