میٹا جو انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی ہے نے اپنے اے آئی سپورٹ اسسٹنٹ میں موجود ایک سنگین سیکیورٹی خامی کو دور کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے باعث ہیکرز کو متعدد انسٹاگرام اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔
میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور متاثرہ اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا میں بڑی تبدیلی: میٹا نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو ایک کردیا
رپورٹس کے مطابق یہ سیکیورٹی کمزوری ٹیلیگرام چینلز پر زیر گردش رہی اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر منظرعام پر آئی جس کے ذریعے حملہ آور بغیر متاثرہ صارف کی ای میل یا فون نمبر تک رسائی حاصل کیے اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق اس طریقۂ واردات میں حملہ آور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) کے ذریعے ٹارگٹ صارف کے جغرافیائی مقام کی نقل کرتے تھے تاکہ خودکار سیکیورٹی نظام کو بائی پاس کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام سے محفوظ پیغام رسانی کا فیچر ختم کرنے کا فیصلہ
بعد ازاں ہیکرز پاس ورڈ ری سیٹ آپشن استعمال کرتے ہوئے میٹا کے اے آئی سپورٹ اسسٹنٹ سے رابطہ کرتے اور اکاؤنٹ سے منسلک ای میل تبدیل کرنے کی درخواست کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران سسٹم ایک 8 ہندسوں پر مشتمل تصدیقی کوڈ فراہم کرتا تھا جسے استعمال کر کے حملہ آور پاس ورڈ ری سیٹ لنک حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔
اس کے نتیجے میں وہ اکاؤنٹ کا نیا پاس ورڈ سیٹ کر کے اصل صارف کو لاگ آؤٹ کر دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کا نیا فیصلہ: کیا اب آپ کے انسٹاگرام ڈائرکٹ میسجز محفوظ ہونگے؟
رپورٹس کے مطابق اس سائبر حملے کے دوران متعدد ہائی پروفائل اکاؤنٹس متاثر ہوئے جن میں سابق امریکی صدر باراک اوباما سے منسوب غیر فعال وائٹ ہاؤس انسٹاگرام اکاؤنٹ، عالمی کاسمیٹکس برانڈ سیفورا، اور امریکی اسپیس فورس کے ایک اعلیٰ اہلکار کا ذاتی اکاؤنٹ شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق اوباما وائٹ ہاؤس انسٹاگرام اکاؤنٹ کو مختصر وقت کے لیے غیر معمولی سرگرمی کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر متنازع مواد بھی پوسٹ کیا گیا جس کے بعد میٹا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اکاؤنٹ کو بحال اور محفوظ بنایا۔













