اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کیس، سپریم کورٹ نے مکمل ریکارڈ طلب کرلیا

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے انسانی جسم سے عضو نکالنے کے مقدمے میں سزا یافتہ ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔

پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی طور پر انسانی اعضا نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گردوں کی غیرقانونی پیوندی کاری میں ملوث بین الصوبائی و بین الاقوامی گروہ کے 3 ملزمان گرفتار

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اگر کسی کو گردہ درکار ہو تو پنجاب سے باآسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پنجاب میں متعلقہ اتھارٹی کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے کہ پنجاب میں 18 سے 20 لاکھ روپے میں باآسانی گردہ دستیاب ہو جاتا ہے اور لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

اس موقع پر سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گردہ عطیہ کرنے والے شخص کو عموماً 2 سے 4 لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ باقی رقم ایجنٹس حاصل کرتے ہیں۔

عدالت کے ایک اور رکن جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے معاملات میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ بعض ڈاکٹرز، اسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں دنیا کی پہلی روبوٹک دل کی پیوندکاری، 16 سالہ مریض پر کامیاب آپریشن

انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ پنجاب والے اپنا دل، گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگ اپنے گردے کو اتنا عزیز سمجھتے ہیں کہ اربوں روپے کی پیشکش بھی قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ ڈاکٹر نے شہری کو بے ہوش کرکے اس کی رضامندی کے بغیر گردہ نکال لیا۔

ڈاکٹر فواد ممتاز خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں، تاہم سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے خلاف اسی نوعیت کے مزید 10 مقدمات بھی درج ہیں۔

مزید پڑھیں: روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین

عدالت نے معاملے کو نہایت سنجیدہ اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ بھرپور تیاری سے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگلی سماعت پر مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کیا جائے گا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ مقدمے کے مطابق ٹیکسلا میں جلد کے ایک ڈاکٹر پر الزام ہے کہ اس نے نوکری کا جھانسہ دے کر ایک شہری کو بے ہوش کرکے اس کا گردہ نکال لیا۔

ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کو 7  سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بوٹوکس سے بشریٰ انصاری کا چہرہ کیسے متاثر ہوا؟ اداکارہ کا چونکا دینے والا انکشاف

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں