سپریم کورٹ نے دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے انسانی جسم سے عضو نکالنے کے مقدمے میں سزا یافتہ ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔
پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی طور پر انسانی اعضا نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گردوں کی غیرقانونی پیوندی کاری میں ملوث بین الصوبائی و بین الاقوامی گروہ کے 3 ملزمان گرفتار
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اگر کسی کو گردہ درکار ہو تو پنجاب سے باآسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پنجاب میں متعلقہ اتھارٹی کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے کہ پنجاب میں 18 سے 20 لاکھ روپے میں باآسانی گردہ دستیاب ہو جاتا ہے اور لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
اس موقع پر سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گردہ عطیہ کرنے والے شخص کو عموماً 2 سے 4 لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ باقی رقم ایجنٹس حاصل کرتے ہیں۔
عدالت کے ایک اور رکن جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے معاملات میں صرف افراد ہی نہیں بلکہ بعض ڈاکٹرز، اسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں دنیا کی پہلی روبوٹک دل کی پیوندکاری، 16 سالہ مریض پر کامیاب آپریشن
انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ پنجاب والے اپنا دل، گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگ اپنے گردے کو اتنا عزیز سمجھتے ہیں کہ اربوں روپے کی پیشکش بھی قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ ڈاکٹر نے شہری کو بے ہوش کرکے اس کی رضامندی کے بغیر گردہ نکال لیا۔
ڈاکٹر فواد ممتاز خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں، تاہم سرکاری وکیل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے خلاف اسی نوعیت کے مزید 10 مقدمات بھی درج ہیں۔
مزید پڑھیں: روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
عدالت نے معاملے کو نہایت سنجیدہ اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ بھرپور تیاری سے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگلی سماعت پر مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کیا جائے گا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ مقدمے کے مطابق ٹیکسلا میں جلد کے ایک ڈاکٹر پر الزام ہے کہ اس نے نوکری کا جھانسہ دے کر ایک شہری کو بے ہوش کرکے اس کا گردہ نکال لیا۔
ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔














