ایران کی جانب سے کویت پر تازہ حملوں کے تناظر میں یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ 3 ماہ سے زائد امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکیں جتنا امریکا کو توقع تھی۔
3 ماہ سے زائد فوجی کارروائیوں اور جنگ بندی کے وقفوں کے بعد اب یہ جنگ امریکا کے لیے ایک لاحاصل مشق بن چکی ہے، جس نے اس کے فوجی تاثر کو نقصان تو پہنچایا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ معاشی اور عوامی تاثر کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
ایک بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ایران ہار نہیں مان نہیں رہا۔
28 فروری کو جنگ کے آغاز کے وقت امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے بیانات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ایک تیز آپریشن کے ذریعے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کر دیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور اب امریکا اس جنگ سے نکلنے کے لیے دباؤ کا شکار ہے اور گزشتہ سے پیوستہ روز امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سامنے آنے والی معاشی، سیاسی اور عسکری حقیقتوں نے اس جنگ کے نتائج کے بارے میں ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کی ہے۔ اس جنگ نے امریکا کو معاشی، سیاسی اور تزویراتی سطح پر قابلِ ذکر قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔
امریکا کی دفاعی ساکھ کو کتنا نقصان پہنچا؟
سوویت یونین کے اختتام کے بعد 1989 سے اب تک امریکا دنیا کی واحد سپرپاور ہے جو کئی ممالک میں کامیاب فوجی کارروائیاں کر چکا ہے اور چند ماہ قبل وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کا آپریشن جہاں ایک طرف امریکی طاقت کا مظہر تھا تو وہیں دوسری طرف ایک چھوٹے ملک کی بے بسی بھی نظر آرہی تھی۔
لیکن ایران کے ساتھ جنگ نے یہ ظاہر کیاکہ نسبتاً کمزور سمجھے جانے والے ممالک بھی امریکا کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ جنگ کے دوران ایران نے خلیجی خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں سیٹلائٹ تصاویر اور آزاد تجزیوں سے معلوم ہوا کہ ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں پر موجود امریکی تنصیبات اور سازوسامان متاثر ہوئے۔
اس جنگ نے امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ سستے ڈرون، بیلسٹک میزائل اور غیر متناسب جنگی حکمتِ عملیاں اب روایتی فوجی برتری کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
امریکی تھنک ٹینکوں نے خبردار کیاکہ ایران کے ساتھ جنگ نے مستقبل کی جنگوں میں امریکا کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے، خصوصاً ہائبرڈ وارفیئر، سائبر حملوں اور کم لاگت والے ہتھیاروں کے میدان میں۔
دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف ہے کہ جنگ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا اور یہ امریکی طاقت کا مظاہرہ تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے بعد بھی امریکا کو خلیج میں اضافی فوجی وسائل تعینات رکھنے پڑے، جو اس بات کی علامت ہے کہ خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
معاشی محاذ پر امریکا کو کیا نقصان ہوا؟
جنگ کا سب سے فوری اثر توانائی کی منڈیوں پر پڑا۔ آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جون 2026 تک برینٹ خام تیل قریباً 95 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا جبکہ سرمایہ کار مسلسل جنگی خبروں پر ردعمل دے رہے تھے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی صارفین کو براہِ راست متاثر کیا۔ پٹرول مہنگا ہوا، نقل و حمل کے اخراجات بڑھے اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ متعدد سرویز میں امریکی شہریوں کی بڑی تعداد نے کہا کہ ایران جنگ کی وجہ سے ان کے گھریلو اخراجات متاثر ہوئے ہیں۔
جنگ کے وسیع تر معاشی اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران سے متعلق بحران طویل ہوا تو عالمی اقتصادی ترقی نمایاں طور پر سست ہو سکتی ہے اور کئی ممالک کساد بازاری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق اس سے امریکی معیشت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ عالمی سپلائی چینز، توانائی کی قیمتیں اور مالیاتی منڈیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی لاگت، میزائل دفاعی نظاموں کے استعمال اور اضافی فوجی ڈیپلائمنٹ نے امریکی دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ کیا۔
کیا امریکی عوام جنگ کے حامی ہیں؟
ایران جنگ کے آغاز سے ہی امریکی عوام میں اس کی مقبولیت محدود رہی۔ متعدد سرویز میں اکثریت نے فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ ایک عالمی سروے کے مطابق 58 فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکی حملوں کی مخالفت کی جبکہ صرف 38 فیصد نے حمایت کی۔ اسی طرح دیگر سرویز میں بھی اکثریت نے جنگ کے پھیلنے، امریکی فوجیوں کی جانوں کو لاحق خطرات اور معاشی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔
بہت سے امریکیوں کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ جنگ کے مقاصد واضح انداز میں بیان کرنے میں ناکام رہے۔ بعض سرویز میں قریباً دو تہائی امریکیوں نے کہاکہ جنگ کے اہداف انہیں واضح نہیں ہیں۔
ایک اور اہم رجحان یہ سامنے آیا کہ اگرچہ بہت سے امریکی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت مؤقف رکھتے تھے، لیکن وہ ایک طویل زمینی جنگ یا بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کے حامی نہیں تھے۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوئی
ایران جنگ شاید صدر ٹرمپ کے لیے سب سے زیادہ سیاسی نقصان کا باعث بنی، جنگ شروع ہونے سے قبل ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ کی شرح قریباً 47 فیصد تھی، لیکن بعد کے مہینوں میں یہ مسلسل کم ہوتی گئی۔ اپریل 2026 کے ایک رائٹرز/اِپسوس سروے میں ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ 34 فیصد تک گر گئی، جو ان کی موجودہ مدتِ صدارت کی کم ترین سطحوں میں شمار کی گئی۔
اسی سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی ایران جنگ میں ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کر رہے تھے جبکہ مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کو سب سے بڑا نقصان اس محاذ پر ہوا کہ وہ 2024 کی انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے اور بیرونی جنگوں سے دور رہنے کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، لیکن ایران جنگ نے ان دونوں دعوؤں کو کمزور کر دیا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
ٹرمپ اور ان کے حامی اس جنگ کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب قرار دیتے ہیں۔ خود ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔










