پاکستان کا خوف: بھارت کا 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ڈرون خریدنے کا منصوبہ

جمعرات 4 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت رواں سال مقامی کمپنیوں سے 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ڈرون خریدنے کی تیاری کر رہا ہے، جو ملک کی تاریخ میں بغیر پائلٹ فضائی نظام کی سب سے بڑی خریداری تصور کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور متوقع طور پر آئندہ 18 سے 24 ماہ کے دوران ان ڈرونز کی فراہمی مکمل کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:امریکی فوجی اڈے سے 4 جدید فوجی ڈرون چوری

بھارتی ڈرون صنعت کی نمائندہ تنظیم ’ڈرون فیڈریشن آف انڈیا‘ کے صدر سمت شاہ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگلے مرحلے میں بھارت کی جانب سے ٹیکٹیکل یا حربی نوعیت کے ڈرونز کی خریداری کا حجم 200 ارب بھارتی روپے، یعنی دو ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ خریداری تیز رفتار دفاعی خریداری کے طریقۂ کار کے تحت کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد مسلح افواج کی فوری عملی ضروریات پوری کرنا ہے۔ اسی وجہ سے ڈرونز کی فراہمی کا وقت بھی نسبتاً مختصر رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے یہ پیشرفت پاکستان کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے، جب دونوں ممالک نے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کا استعمال کیا۔ اس تجربے نے کم لاگت ڈرونز کی نگرانی، حملے اور جنگی حکمت عملی میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کر دیا۔

دوسری جانب یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے بھی دنیا بھر میں ڈرون ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اخراجات میں کمی اور جنگی طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہورمیں فوجی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا، انڈیا کی طرف سے ڈرونز بھیجنے کا عمل جاری ہے،جنہیں تباہ کیاجارہا ہے، آئی ایس پی آر

بھارتی وزارتِ دفاع نے مارچ میں قریباً 2.38 کھرب بھارتی روپے مالیت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دی تھی، جس میں ٹرانسپورٹ طیارے، میزائل نظام اور مسلح ڈرونز بھی شامل تھے، تاہم ہر شعبے کے لیے مختص رقم کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی میدان میں ڈرونز ’فورس ملٹی پلائر‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، جو کم لاگت میں نگرانی، ہدف شناسی اور حملے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔

بھارت میں اس وقت 600 سے زائد کمپنیاں ڈرونز اور ان کے پرزہ جات تیار کر رہی ہیں، جن میں بڑے صنعتی گروپوں کے ساتھ ساتھ متعدد نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ یہ ادارے جاسوسی، رسد کی ترسیل، خودکش ڈرونز، درست نشانے والے حملوں اور حساس دفاعی نظاموں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: یوکرینی فوجی بھوک، تنہائی اور ڈرون جنگ کے شکنجے میں

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں دفاعی خریداری کے روایتی اور طویل عمل میں اصلاحات کی ہیں، جس کے تحت ہنگامی بنیادوں پر خریداری، نجی شعبے کی شمولیت اور مقامی پیداوار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکومت نے چھوٹی اور نئی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مالی معاونت کے پروگرام بھی متعارف کرائے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ خریداری نہ صرف بھارتی مسلح افواج کی ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ مقامی دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک بڑے معاشی اور تکنیکی موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے