بھارت رواں سال مقامی کمپنیوں سے 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی ڈرون خریدنے کی تیاری کر رہا ہے، جو ملک کی تاریخ میں بغیر پائلٹ فضائی نظام کی سب سے بڑی خریداری تصور کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور متوقع طور پر آئندہ 18 سے 24 ماہ کے دوران ان ڈرونز کی فراہمی مکمل کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:امریکی فوجی اڈے سے 4 جدید فوجی ڈرون چوری
بھارتی ڈرون صنعت کی نمائندہ تنظیم ’ڈرون فیڈریشن آف انڈیا‘ کے صدر سمت شاہ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگلے مرحلے میں بھارت کی جانب سے ٹیکٹیکل یا حربی نوعیت کے ڈرونز کی خریداری کا حجم 200 ارب بھارتی روپے، یعنی دو ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ خریداری تیز رفتار دفاعی خریداری کے طریقۂ کار کے تحت کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد مسلح افواج کی فوری عملی ضروریات پوری کرنا ہے۔ اسی وجہ سے ڈرونز کی فراہمی کا وقت بھی نسبتاً مختصر رکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے یہ پیشرفت پاکستان کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے، جب دونوں ممالک نے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کا استعمال کیا۔ اس تجربے نے کم لاگت ڈرونز کی نگرانی، حملے اور جنگی حکمت عملی میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کر دیا۔
دوسری جانب یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے بھی دنیا بھر میں ڈرون ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اخراجات میں کمی اور جنگی طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
بھارتی وزارتِ دفاع نے مارچ میں قریباً 2.38 کھرب بھارتی روپے مالیت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دی تھی، جس میں ٹرانسپورٹ طیارے، میزائل نظام اور مسلح ڈرونز بھی شامل تھے، تاہم ہر شعبے کے لیے مختص رقم کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی میدان میں ڈرونز ’فورس ملٹی پلائر‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، جو کم لاگت میں نگرانی، ہدف شناسی اور حملے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
بھارت میں اس وقت 600 سے زائد کمپنیاں ڈرونز اور ان کے پرزہ جات تیار کر رہی ہیں، جن میں بڑے صنعتی گروپوں کے ساتھ ساتھ متعدد نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ یہ ادارے جاسوسی، رسد کی ترسیل، خودکش ڈرونز، درست نشانے والے حملوں اور حساس دفاعی نظاموں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: یوکرینی فوجی بھوک، تنہائی اور ڈرون جنگ کے شکنجے میں
رپورٹ کے مطابق نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں دفاعی خریداری کے روایتی اور طویل عمل میں اصلاحات کی ہیں، جس کے تحت ہنگامی بنیادوں پر خریداری، نجی شعبے کی شمولیت اور مقامی پیداوار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکومت نے چھوٹی اور نئی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مالی معاونت کے پروگرام بھی متعارف کرائے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ خریداری نہ صرف بھارتی مسلح افواج کی ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ مقامی دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک بڑے معاشی اور تکنیکی موقع کی حیثیت رکھتی ہے۔














