روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے محاذِ جنگ کی صورتحال یکسر تبدیل کردی ہے، جہاں خوراک، پانی اور اسلحے کی فراہمی فوجیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
اپریل کے آخر میں یوکرین کے 4 نہایت کمزور اور بھوک سے نڈھال فوجیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جنہوں نے ملک بھر میں تشویش پیدا کردی۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، صدر پیوٹن
کیونکہ روسی بمباری سے وہ پل تباہ ہوگئے تھے جو انہیں مرکزی یونٹ سے ملاتے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فوجی مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں دریائے اوسکل کے قریب کئی روز تک محصور رہے۔
Russia launched one of its longest mass drone attacks against Ukraine, killing six people and injuring dozens, including children, on May 13. The attack has involved repeated waves of drones, with hundreds of them launched since the start of the day.
The strikes came as the U.S.… pic.twitter.com/dhM0Ro1nU0
— MFA of Ukraine 🇺🇦 (@MFA_Ukraine) May 13, 2026
فوجیوں کے اہل خانہ کے مطابق بعض اہلکار 17 روز تک خوراک سے محروم رہے اور بارش کا پانی پینے پر مجبور تھے۔
ایک فوجی کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس کا شوہر مسلسل ریڈیو پر مدد مانگتا رہا لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔
مزید پڑھیں: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل
یوکرینی فوجیوں کا کہنا ہے کہ اب جنگی محاذ پر روایتی سپلائی گاڑیوں کا استعمال تقریباً ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ ہر وقت نگرانی کرنے والے روسی اور یوکرینی ڈرونز کسی بھی حرکت کو فوری نشانہ بنا لیتے ہیں۔
اسی وجہ سے محاذ پر موجود مورچوں تک خوراک، ادویات اور گولہ بارود زیادہ تر ڈرونز یا روبوٹک گاڑیوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔

ایک زخمی یوکرینی فوجی اولیکسینڈر نے بتایا کہ محاذ پر کئی ہفتوں تک صرف چاکلیٹ بار، دلیہ اور پانی کی ایک بوتل ہی میسر آتی تھی۔
اس کے مطابق جنگ کے دوران سب سے زیادہ ایک گرم کھانے کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
ماہرین کے مطابق خودکش ڈرونز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی اہمیت کم کردی ہے۔
اب کھلے میدان میں کسی گاڑی کا چلنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ ڈرونز فوری حملہ کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روسی فوجیوں کو بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، بعض روسی اہلکار محدود خوراک کے ساتھ خطرناک مشنز پر بھیجے جاتے ہیں
یوکرینی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ روسی فوجی خوراک اور گولہ بارود کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں:پیوٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تیار، ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کا عندیہ: ٹرمپ کا دعویٰ
یوکرینی وزارتِ دفاع نے واقعے کے بعد تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو ناکافی خوراک کی فراہمی معمول نہیں بننی چاہیے، جبکہ متعلقہ بریگیڈ کے کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔












