یوکرینی فوجی بھوک، تنہائی اور ڈرون جنگ کے شکنجے میں

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے محاذِ جنگ کی صورتحال یکسر تبدیل کردی ہے، جہاں خوراک، پانی اور اسلحے کی فراہمی فوجیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اپریل کے آخر میں یوکرین کے 4 نہایت کمزور اور بھوک سے نڈھال فوجیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جنہوں نے ملک بھر میں تشویش پیدا کردی۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، صدر پیوٹن

کیونکہ روسی بمباری سے وہ پل تباہ ہوگئے تھے جو انہیں مرکزی یونٹ سے ملاتے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فوجی مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں دریائے اوسکل کے قریب کئی روز تک محصور رہے۔

فوجیوں کے اہل خانہ کے مطابق بعض اہلکار 17 روز تک خوراک سے محروم رہے اور بارش کا پانی پینے پر مجبور تھے۔

ایک فوجی کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس کا شوہر مسلسل ریڈیو پر مدد مانگتا رہا لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔

مزید پڑھیں: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل

یوکرینی فوجیوں کا کہنا ہے کہ اب جنگی محاذ پر روایتی سپلائی گاڑیوں کا استعمال تقریباً ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ ہر وقت نگرانی کرنے والے روسی اور یوکرینی ڈرونز کسی بھی حرکت کو فوری نشانہ بنا لیتے ہیں۔

اسی وجہ سے محاذ پر موجود مورچوں تک خوراک، ادویات اور گولہ بارود زیادہ تر ڈرونز یا روبوٹک گاڑیوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔

ایک زخمی یوکرینی فوجی اولیکسینڈر نے بتایا کہ محاذ پر کئی ہفتوں تک صرف چاکلیٹ بار، دلیہ اور پانی کی ایک بوتل ہی میسر آتی تھی۔

اس کے مطابق جنگ کے دوران سب سے زیادہ ایک گرم کھانے کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے

ماہرین کے مطابق خودکش ڈرونز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی اہمیت کم کردی ہے۔

اب کھلے میدان میں کسی گاڑی کا چلنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ ڈرونز فوری حملہ کرسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روسی فوجیوں کو بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، بعض روسی اہلکار محدود خوراک کے ساتھ خطرناک مشنز پر بھیجے جاتے ہیں

یوکرینی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ روسی فوجی خوراک اور گولہ بارود کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:پیوٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تیار، ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کا عندیہ: ٹرمپ کا دعویٰ

یوکرینی وزارتِ دفاع نے واقعے کے بعد تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو ناکافی خوراک کی فراہمی معمول نہیں بننی چاہیے، جبکہ متعلقہ بریگیڈ کے کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہی ہوگا، پاکستان کو دبایا نہیں جا سکتا، سینیئر سفارتکار جوہر سلیم

نام نہاد بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب، ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر بی ایل اے کا پرچم لہرا دیا گیا

سام سنگ نے نئے فولڈ ایبل فون کی جھلک دکھا دی، ڈیزائن میں بڑی تبدیلی

سال 2026 کے 6 ماہ: ٹیکنالوجی شعبہ عالمی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں، امریکا اس میدان میں پیچھے رہ گیا

مون سون کے دوران خطرات سے بچاؤ کے لیے جامع روڈ میپ کے تحت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں