خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب فریقین ایک عبوری معاہدے کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متوقع معاہدے کے نتیجے میں ایران شدید معاشی اور عسکری نقصان کے باوجود اپنی ریاستی ساخت اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی
معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر عائد اپنی عملی رکاوٹیں ختم کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں اسے مالی ریلیف، منجمد اثاثوں تک رسائی اور پابندیوں میں محدود نرمی مل سکتی ہے۔
اس پیش رفت کا مقصد عالمی تیل منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا، مالیاتی دباؤ کم کرنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی طور پر ایک قابل قبول راستہ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
War may end in interim deal that leaves Iran battered but unbowed https://t.co/i1RUWbBtBP https://t.co/i1RUWbBtBP
— Reuters (@Reuters) June 3, 2026
سفارت کاروں اور علاقائی ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی یا ابتدائی معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم اس سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجود بنیادی اختلافات ختم ہونے کا امکان نہیں۔
ایران اب بھی یورینیم افزودگی جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ امریکا سیکیورٹی ضمانتیں دینے سے گریزاں ہے اور اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ تصور کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیشرفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس
رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس معاہدے کو وقت حاصل کرنے، معاشی مشکلات کم کرنے اور داخلی دباؤ پر قابو پانے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی پیش رفت کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی راہ میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایران تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی فوری رہائی کو بنیادی شرط قرار دے رہا ہے۔
جبکہ وہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کو بھی معاہدے سے جوڑنا چاہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی و صنعتی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کے باوجود پاسدارانِ انقلاب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے بات چیت کا خواہشمند ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ عبوری معاہدہ جنگ میں وقتی وقفہ تو لا سکتا ہے، لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں پر محیط بنیادی تنازع اور عدم اعتماد بدستور برقرار رہے گا۔
سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس کے بقول، اسرائیل اور ایران کے لیے جنگ کا یہ مرحلہ شاید ختم ہو جائے، لیکن اصل تنازع ختم نہیں ہوگا۔














