اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 10 بج کر 45 منٹ تک بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,009.66 پوائنٹس یعنی 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 171,200.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں خریداری ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس میں 800 سے زائد پوائنٹس کمی
ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبکو، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
دریں اثنا، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +1011.71 points this morning. Current index is at 171,202.36 points (9:45 AM) pic.twitter.com/nOQjjVryHS— Investify Pakistan (@investifypk) June 4, 2026
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اطلاعات تھیں کہ وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش کیے جانے کا امکان کم ہے، کیونکہ بعض مالیاتی اقدامات پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ابھی تک نہیں ہو سکا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی، سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت نہ ہونے پر محتاط رہے، جس کے باعث مختلف شعبوں میں فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 831.13 پوائنٹس یعنی 0.49 فیصد کمی کے ساتھ 170,190.64 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
تاہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے بعد تیل کی قیمتوں میں حالیہ بلند سطح سے کچھ کمی آئی۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسفک انڈیکس میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز 0.5 فیصد نیچے آ گئے۔

تعطیل کے بعد کھلنے والی جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 2.6 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 1.9 فیصد گر گیا۔
وال اسٹریٹ میں بھی گزشتہ شب مندی رہی، جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.7 فیصد نیچے بند ہوا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کی وجہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا فقدان اور نئی جھڑپوں کا آغاز بتایا گیا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدے کی امید، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی
دوسری جانب، امریکا میں سروسز سیکٹر کے بہتر معاشی اعدادوشمار بھی سرمایہ کاروں کے خدشات کم نہ کر سکے۔
کاروباری اداروں نے ممکنہ قلت اور بڑھتی قیمتوں کے خدشے کے پیش نظر پیشگی آرڈرز اور ذخائر میں اضافہ کیا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز جمعرات کو 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 96.59 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، یہ کمی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کے بعد سامنے آئی۔














