ایران امریکا معاہدے کی امید، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی امید پر جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی مفاہمت سے عالمی توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ میں کمی آئے گی۔

ایشیا میں جمعہ کی صبح ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 0.9 فیصد کمی کے بعد 93 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.1 فیصد

کم ہو کر 88 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بیجنگ سمٹ: خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، سرمایہ کاروں کا مثبت رجحان

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو، جنوبی کوریا کے سیول اور تائیوان کے تائی پے کی اسٹاک مارکیٹوں کے اہم انڈیکسز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی مارکیٹ میں ایک فیصد بہتری آئی۔

ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں نسبتاً محدود اضافہ ہوا، جبکہ شنگھائی کے مرکزی انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ میں جمعرات کے روز مثبت رجحان اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی معیشت سے متعلق کئی منفی اشارے سامنے آئے۔ فیڈرل ریزرو کے پسندیدہ افراطِ زر کے اشاریے میں

 https://Twitter.com/moneycontrolcom/status/2060187283094188499

اپریل کے دوران 2023 کے بعد بلند ترین اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پہلی سہ ماہی کی اقتصادی ترقی کے تخمینے کو مزید کم کر دیا گیا۔

مسلسل مہنگائی اور سست معاشی نمو کے باعث امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معیشت کو سہارا دینے کے لیے

بار بار شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

آکسفورڈ اکنامکس کے ماہر میتھیو مارٹن کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی اور بدترین حالات کے امکانات کم ہونے سے عالمی کساد بازاری کے خدشات بھی کم ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی کے باوجود تیل و گیس کی قیمتیں معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا؟

انہوں نے کہا کہ جنگی خطرات میں کمی سے مارکیٹ کو سہارا ملا، تاہم شیئرز کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ مضبوط کارپوریٹ نتائج اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری ہے۔

عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی میں بڑھتی دلچسپی کے باعث چِپ ساز کمپنیوں مائیکرون اور ایس کے ہائنکس کی مارکیٹ ویلیو پہلی بار ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

ادھر یورپ میں رہنما آج ایک اہم اجلاس میں چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی خسارے پر غور کریں گے۔

یورپی یونین کے کمشنرز اس بات پر بحث کریں گے کہ یورپی کمپنیوں کو چینی حریفوں کی مبینہ غیر منصفانہ مسابقت سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp