سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دلائل کا محور قتل کے وقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا
انہوں نے تسلیم کیا کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا اور ظاہر جعفر وقوعے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔
ان کے مطابق ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اس کا علاج جاری رہا۔
مزید پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری، ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار
سماعت کے دوران بینچ کے ارکان نے استفسار کیا کہ ایسا طبی ریکارڈ پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ ملزم کا علاج کب شروع ہوا، کس ڈاکٹر نے کیا اور وقوعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی۔
عدالت نے ملزم کی تعلیمی زندگی اور طبی تاریخ سے متعلق ریکارڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس میں کب کیا ہوا؟
وکیلِ صفائی کی جانب سے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بینچ نے اس خط کی تاریخ اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد نور مقدم قتل کیس میں اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔














