آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں سے متعلق جاری آئینی اور قانونی بحث میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ایک آئینی ریفرنس دائر کر دیا ہے، جسے عدالت عظمیٰ نے سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر اہم پیشرفت، آئینی و قانونی مؤقف سامنے آگیا
ذرائع کے مطابق اس اہم ریفرنس کی سماعت کل صبح ساڑھے 9 بجے سپریم کورٹ کے فل بینچ کے روبرو ہوگی۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ راجا سعید اکرم خان بینچ کی سربراہی کریں گے، جبکہ جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی فل بینچ کا حصہ ہوں گے۔
عدالتی اور سیاسی حلقوں میں اس مقدمے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے نتائج مہاجرین کی نشستوں سے متعلق مستقبل کی آئینی اور انتخابی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے یہ ریفرنس آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کے آرٹیکل 46 اے کے تحت دائر کیا گیا ہے۔
ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے آئینی اور قانونی سوالات پر واضح اور حتمی رہنمائی فراہم کرے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹسز کے اجرا کے بعد کل ہونے والی سماعت پر حکومت، اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں سمیت مختلف حلقوں کی گہری نظر مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ اس معاملے کو آزاد کشمیر کی سیاست اور آئینی ڈھانچے کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔














