پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ اور اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے واضح مینڈیٹ دیں۔
غیزر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسہِ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے حقوق کے حقیقی تحفظ اور یہاں کے عوام کو ان کی دھرتی کا مالک بنانے کے لیے ایک مخلص ’جیالا وزیرِ اعلیٰ‘ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
’اسلام آباد کو بتانا ہوگا کہ صوبہ بننے سے پہلے گلگت کی آواز سنی جائے‘
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں گلگت بلتستان سے ایک مضبوط اور واضح مینڈیٹ کی ضرورت ہے تاکہ ہم وفاق کے ایوانوں میں جا کر پورے غصے اور حق کے ساتھ کہہ سکیں کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبہ بنانے سے پہلے یہاں کے غیور عوام کی آواز کو سننا اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:7 جون کا الیکشن جیت کر گلگت بلتستان میں جیالا وزیراعلیٰ لائیں گے، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے اس دھرتی کے لوگوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا سودا نہیں ہونے دے گی۔
زمینوں کی ملکیت کا قانون اور سیاسی مخالفین کی رکاوٹیں
پی پی پی کے سربراہ نے اس بات پر سخت زور دیا کہ گلگت بلتستان میں مقامی رہائشیوں کے لیے زمین کی ملکیت کے حقوق کو قانونی تحفظ دینا ان کا اولین منشور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر عوام نے پیپلز پارٹی کو اکثریتی مینڈیٹ نہ دیا، تو پارٹی یہاں کے لوگوں کے فائدے کے لیے ملکیتی قانون نافذ کرنے کی قانون سازی نہیں کر سکے گی۔ چاہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا کوئی اور جماعت، وہ کبھی بھی پیپلز پارٹی کی اس غریب پرور قانون سازی کو منظور نہیں ہونے دیں گے‘۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننا اس لیے ضروری ہے تاکہ یہاں کی قابلِ کاشت اور بنجر زمینیں کسی اور کے پاس جانے کے بجائے قانون کے تحت مقامی عوام میں تقسیم کی جا سکیں اور انہیں ان کا جائز حق مل سکے۔
یاد رہے کہ 2009 میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جاری کردہ ’گلگت بلتستان (بااختیار بنانے اور خود حکمرانی) کا حکم نامہ‘ اس خطے کو خود مختار حکمرانی دینے کی طرف پہلا بڑا قدم تھا۔
چوتھے عام انتخابات اور ووٹرز کے اعداد و شمار پر ایک نظر
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو چوتھی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے اور اس بار خطے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق خطے میں مجموعی رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 963,034 تک پہنچ چکی ہے، جس میں 506,097 مرد ووٹرز اور 456,937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
سنہ 2020 کے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس بار ووٹرز کی کل تعداد میں 29 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس پورے ڈیٹا میں سب سے خوش آئند بات مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان صنفی فرق کا تیزی سے کم ہونا ہے؛ یہ فرق 2020 میں 8 فیصد تھا جو اب گھٹ کر صرف 4 فیصد رہ گیا ہے، جو خطے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری اور انتخابی عمل میں ان کی بھرپور دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔














