افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر عالمی تشویش، خطے کے امن کو خطرہ قرار

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) نے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف کے مطابق افغانستان میں بدامنی اور بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات یورپ اور ایشیا کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ایس ٹی او کے سربراہانِ افواج کمیٹی کے چیئرمین آندرے سیردیوکوف بھی افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان گروہوں کی موجودگی پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی سلامتی کونسل کے حکام کے مطابق افغانستان میں 18 سے 23 ہزار تک جنگجو مختلف دہشتگرد تنظیموں سے وابستہ ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے ’اصول‘: حصول تعلیم مرد و عورت دونوں پر فرض پھر لاکھوں لڑکیاں علم سے محروم کیوں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، جبکہ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp