اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) نے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی
سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف کے مطابق افغانستان میں بدامنی اور بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات یورپ اور ایشیا کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
Collective Security Treaty Organization نے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی موجودگی اور سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔@KulAalam pic.twitter.com/IogDAbzlsP
— Media Talk (@mediatalk922) June 5, 2026
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ایس ٹی او کے سربراہانِ افواج کمیٹی کے چیئرمین آندرے سیردیوکوف بھی افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان گروہوں کی موجودگی پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی سلامتی کونسل کے حکام کے مطابق افغانستان میں 18 سے 23 ہزار تک جنگجو مختلف دہشتگرد تنظیموں سے وابستہ ہیں۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے ’اصول‘: حصول تعلیم مرد و عورت دونوں پر فرض پھر لاکھوں لڑکیاں علم سے محروم کیوں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، جبکہ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔














