گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پولنگ میں صرف 2 دن باقی رہ گئے ہیں اور آج رات ٹھیک 12 بجے انتخابی مہم کا وقت باقاعدہ ختم ہوجائے گا۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد کسی بھی قسم کی ریلی، کارنر میٹنگ، سیاسی جلوس یا انتخابی مہم چلانے پر مکمل پابندی ہوگی، اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟
اس وقت گلگت، اسکردو، دیامر، غذر، ہنزہ اور گانچھے سمیت تمام اضلاع میں 24 سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے آخری پاور شوز، جلسے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی 2026 سے لے کر اب تک خطے میں ریکارڈ 614 انتخابی سرگرمیاں منعقد کی جاچکی ہیں، جن میں 217 عوامی جلسے اور افتتاح، 243 انتخابی دفاتر کا قیام، 92 سیاسی جلوس اور 62 بڑے جلسے شامل ہیں، جبکہ پورے خطے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
اضلاع کی سطح پر انتخابی گہما گہمی پر نظر ڈالی جائے تو دیامر 3 لاکھ 37 ہزار 329 کی آبادی کے ساتھ ووٹرز کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع بن کر سامنے آیا ہے، جہاں کا حلقہ تانگیر 4 اس وقت شدید ترین سیاسی ہلچل اور انتخابی گہما گہمی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: ’نہ پوسٹر، نہ بینر‘، ہنزہ کے نوجوان امیدوار ماحول دوست انتخابی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟
دوسری جانب ضلع گلگت کے چار حلقوں میں کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 58 ہزار 714 ہے، جہاں حلقہ 15 میں 44 ہزار 526، حلقہ 16 میں 46 ہزار 282، حلقہ 17 میں 41 ہزار 045 اور حلقہ 18 میں 26 ہزار 861 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، اور مقامی طور پر مضبوط امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی بحث عروج پر ہے۔
اسکردو کے حلقہ جی بی 10 (اسکردو 4) میں بھی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں شدید گرمی کے بعد ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا کر کارکنوں کے جوش و خروش کو مزید بڑھا دیا ہے اور یہاں بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔
غذر میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تحصیل اشقومن میں آخری پاور شو کیا جارہا ہے، جبکہ ہنزہ اور گانچھے میں بھی امیدوار آخری جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں الیکشن سیکیورٹی یقینی بنائیں گے، وزیر داخلہ محسن نقوی
گانچھے کے 3 حلقوں میں 97 ہزار 463 ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت 26 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس، 39 کو حساس اور 89 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔
آج رات مہم ختم ہونے کے بعد تمام نظریں پولنگ کے دن پر مرکوز ہو جائیں گی جہاں عوام گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔














