وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حکومت ریاست میں افراتفری نہیں چاہتی لیکن ایکشن کمیٹی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں اب ان سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے، حالات خراب ہوئے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے۔
صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں آزاد کشمیر کسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے۔

وزیراعظم سے سینیئر صحافی و چیف ایڈیٹر ’وی نیوز‘ عمار مسعود، اینکر پرسن خواجہ اے متین، ڈائریکٹر نیوز جی ٹی وی نیوز قیوم بخاری، ڈائریکٹر نیوز سچ ٹی وی نیوز حنیف قمر، رضوان عباسی، رئیس احمد خان اور غلام مصطفیٰ ہاشمی نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم کے سیاسی معاون عزادار کاظمی بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں: مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بلیک میلنگ کی سیاست کررہی ہے اور ہر بار مطالبات تسلیم ہونے کے بعد نئے مطالبات سامنے لے آتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی اور حکومت ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی ہر کوشش کا قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مقابلہ کرے گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ آزاد کشمیر کے حقوق اور مراعات کا دیگر علاقوں سے منصفانہ موازنہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے وزرا کی تنخواہیں آزاد کشمیر کے وزرا سے کئی گنا زیادہ ہیں، لیکن پھر بھی کہا جاتا کہ ہم کوئی زیادہ مراعات لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور نظامِ حکومت کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیراعظم نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومتی قیادت کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی جا رہی ہے، جو سیاسی اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال پر غور کے لیے آج اسلام آباد زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جہاں مشاورت کی جائےگی۔
انہوں نے کہاکہ اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی معاملات اور آئندہ انتخابات سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
فیصل ممتاز راٹھور کے مطابق ان کی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات بھی طے ہے، جس میں وہ پارٹی قیادت کو آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور انتخابی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی اداروں اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران تعلیم، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پسماندہ علاقوں میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر عوامی سہولیات کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال، الیکشن شیڈول بھی جاری، ریاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟
فیصل ممتاز راٹھور نے اس عزم کا اظہار کیاکہ عوامی مسائل کے حل، ریاستی استحکام، امن و امان اور ریاستی رٹ کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














