آزاد کشمیر میں عام انتخابات فوج اور رینجرز کی نگرانی میں کرائے جائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا اعلان

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کی جائیں گی۔

آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی زیر صدارت جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ انتخابات کے انتظامات، قانونی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ کا ٹکٹ ہاٹ فیورٹ، نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

اجلاس میں ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان، آزاد جموں و کشمیر کے 33 حلقوں کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور مہاجرین کے 12 حلقوں کے ریٹرننگ افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر الیکشن کمشنر راجہ راشد محمود، الیکشن کمشنر محترمہ نویدہ گیلانی، اسسٹنٹ الیکشن کمشنر راجہ ناصر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اطلاعات خواجہ عمران الحق اور نگران راجہ مختیار بھی موجود تھے۔

شفاف انتخابات کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، چیف الیکشن کمشنر

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی عدلیہ باعث فخر ہے اور عدلیہ ریاست کا چہرہ ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کا سب سے زیادہ اعتماد عدلیہ پر ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 2016 میں آزاد کشمیر کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات منعقد ہوئے تھے جن پر کسی سیاسی جماعت نے اعتراض نہیں کیا، جبکہ پاکستان کے نامور صحافیوں نے بھی انہیں فون کر کے مبارکباد دی تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، خواہ کسی امیدوار کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

عدلیہ ریاست کا چہرہ ہے، عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ہوگا

جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ کافی عرصے بعد آپ سے مخاطب ہونا اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات کے انعقاد کے بعد افسران نے جذباتی انداز میں انہیں الوداع کہا تھا اور انہوں نے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق افسران کی مشکلات کے حل کے لیے کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نہ تو پریس کانفرنسیں کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتی ہے، اس لیے اس ادارے کے وقار اور اعتماد کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر افسر کو ایماندار اور فرض شناس ہونا چاہیے اور عوام نے ایک بار پھر شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

قائداعظم کے اصولوں کے مطابق کام کرنے کی ہدایت

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے سرکاری افسران کو ہدایت کی تھی کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں اور اس بات سے غرض نہ رکھیں کہ کون حکومت میں آتا ہے اور کون جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام افسران کو برادری، گروہی وابستگی اور ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دینا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ شفاف ووٹر لسٹوں کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ اب پولنگ اسکیم کو شفاف بنانا ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے ساتھ اس حوالے سے ایک اجلاس ہو چکا ہے جبکہ مزید اجلاس بھی کیے جائیں گے تاکہ انتخابی عمل کے تمام انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔

ضابطہ اخلاق اور پریزائیڈنگ افسران کی تقرری میں شفافیت پر زور

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ضابطۂ اخلاق تمام افسران کو فراہم کیا جا چکا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے اور کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پریزائیڈنگ افسران کی تقرری بھی مکمل شفافیت کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ اگرچہ معاشرے میں رہتے ہوئے بعض اوقات کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، تاہم پوری کوشش ہونی چاہیے کہ انتخابی عمل ہر لحاظ سے شفاف رہے۔

میڈیا کے دور میں انتخابات کا انعقاد بڑا چیلنج قرار

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے جس کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے اور پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابی افسران کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے اپنے ایک فیصلے میں انتخابی افسران کی تربیت کو ضروری قرار دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر یا ریٹرننگ افسر کے پاس عملے کی کمی ہو تو وہ انتخابی مدت کے لیے دو ڈی ای اوز اور ایک نائب قاصد میرٹ پر بھرتی کر سکتا ہے۔

مہاجرین کے حلقوں سے متعلق شکایات اور سیکیورٹی انتظامات

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مہاجرین کے حلقوں کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولنگ کے روز امن و امان اور پولنگ اسٹیشنوں کے تحفظ کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کی جائیں گی۔

عدلیہ اور دفاعی ادارے عوام کے اعتماد کا مرکز ہیں، سید نظیر الحسن گیلانی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہیں ان شخصیات سے خطاب کا موقع ملا جو عوام کو انصاف فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کے کئی ادارے عوامی اعتماد کے بحران کا شکار ہیں، تاہم دو ادارے ایسے ہیں جن پر عوام اب بھی مکمل اعتماد رکھتے ہیں، جن میں دفاعی ادارے اور عدلیہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ملک کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوتا ہے تو انہی اداروں کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کی روایت بھی اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کیونکہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ عدلیہ ہی شفاف انتخابات کا انعقاد کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جج کے لیے ضابطۂ اخلاق واضح ہے اور اسے مثالی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔

الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر راجہ فیصل نے کہا کہ آج کا اجلاس اس امر کا اظہار ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام افسران بھرپور انداز میں تیار ہیں اور ماضی کی طرح اس بار بھی اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ریٹرننگ افسران کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام ادارے مل کر انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں گے۔

ریٹرننگ افسران کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت

سیکریٹری الیکشن کمیشن راجا شکیل خان نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: الیکشن سے قبل پی ٹی آئی اختلافات کا شکار، مرکزی قیادت کے خلاف احتجاج کا عندیہ

اجلاس کی نظامت کے فرائض بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان نے انجام دیے۔

اجلاس کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران نے انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کے لیے مختلف قانونی و انتظامی امور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp