لڑکیاں خطرے میں ہیں
بیٹیاں خطرے میں ہیں
بچیاں خطرے میں ہیں
گھر کے اندر — گھر سے باہر
پردے میں بھی— قبر کے اندر خواتین کی لاشیں خطرے میں ہیں۔
کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں خواتین محفوظ ہو؟
اگر ہے تو بتاؤ۔
ورنہ کم از کم یہ تو مان لو کہ مسئلہ عورت کی جگہ کا نہیں، مسئلہ تمہاری سوچ کا ہے۔
4 جون 2026کی صبح کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ایک ڈاکٹر اپنے کمرے میں بیٹھی مریضوں کی علاج کر رہی تھی، باہر ایک درندہ انتظار میں تھا۔ چند لمحوں میں تیزاب کی ایک بوتل نے نہ صرف ڈاکٹر مہ نور ناصر کا جسم جھلسا دیا، بلکہ اس سوال کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا جو ہم دہائیوں سے ٹالتے آ رہے ہیں: اس ملک میں عورت محفوظ کہاں ہے؟
وہ واقعات جنہیں ہم بھولنا چاہتے ہیں، مگر بھول نہیں سکتے۔
6 جون 2026 ؛ ڈاکٹر مہ نور ناصر ؛ کوئٹہ سول ہسپتال
ڈاکٹر مہ نور ناصر، سندیمان سول ہسپتال کوئٹہ کے سرجری وارڈ میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر تھیں۔ ہسپتال کا ایک لفٹ آپریٹر، ہمایون شاہ، ان کے کمرے کے باہر چھپ کر انتظار کرتا رہا۔ جیسے ہی ڈاکٹر صاحبہ اپنے کمرے میں داخل ہوئیں، اس نے تیزاب پھینکا اور فرار ہو گیا۔ ڈاکٹر کے جسم کا 70 فیصد حصہ جھلس گیا۔ انہیں علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔
پاکستان ہیومن رائٹس کونسل نے اسے بربریت اور بزدلانہ حملہ قرار دیا اور کہا کہ جو عورت انسانیت کی خدمت کرتی ہے، اسے اپنے ہی کام کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنانا پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک ڈاکٹر پر حملہ نہیں، یہ ہر اس بیٹی پر حملہ ہے جو گھر سے نکل کر کچھ بننا چاہتی ہے۔
20 جولائی 2021 ؛ نور مقدم سفارت کار کی بیٹی، ذبح کر دی گئی
27 سالہ نور مقدم سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی اسلام آباد کے سیکٹر F-7 میں ظاہر جعفر کے گھر مردہ حالت میں ملی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نے دکھایا کہ نور نے بھاگنے کی کوشش کی، بالائی منزل سے چھلانگ لگائی، گارڈ کے کیبن میں پناہ مانگی، لیکن گیٹ بند تھا اور بچانے والا کوئی نہ تھا۔ اسے گولی مار کر بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ محفوظ گھروں کے دعوے کا منہ توڑ جواب تھا۔ وہ لڑکی اسلام آباد کے پوش علاقے میں ہلاک ہوئی، نہ کسی ویران گلی میں۔
14 اگست 2021 ؛ مینار پاکستان آزادی کے دن، 400 درندوں کا ہجوم
14 اگست 2021 پاکستان کا یوم آزادی۔ لاہور کے مینار پاکستان کے سائے تلے، قریباً 400 افراد کے ہجوم نے سوشل میڈیا صارف عائشہ اکرم کو گھیر لیا۔ اسے اٹھا کر ہوا میں پھینکا گیا، اس کے کپڑے پھاڑے گئے، اور اسے ہراساں کیا گیا۔ ویڈیو وائرل ہوئی۔ عالمی سطح پر مذمت ہوئی۔ مگر سوال باقی رہا: جس دن ہم آزادی مناتے ہیں، اس دن ہماری بیٹیاں قید و بند میں کیوں ہیں؟
جنوری 2018 ؛ زینب انصاری سات سالہ بچی، قصور کی گلیوں میں
زینب ابھی سات سال کی بچی تھی وہ کلاس سے واپس آتے ہوئے اغوا کی گئی،زیادتی کا نشانہ بنائی گئی اور قتل کر دی گئی۔اس کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی۔پورا پاکستان سڑکوں پر آ گیا۔ہر آنکھ نم تھی۔قانون حرکت میں آیا۔ زینب کا قاتل پھانسی چڑھا مگر معاشرے کا وہ ذہن ابھی زندہ ہے، جس نے اسے جنم دیا۔
لاہور موٹروے واقعہ ؛ بچوں کے سامنے، ویران سڑک پر ماں کے ساتھ زیادتی
9 ستمبر 2020 کی رات، ایک ماں اپنے 2 معصوم بچوں کے ساتھ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا۔ اس نے مدد کے لیے رشتہ داروں کو فون کیا وہ آ رہے تھے۔ مگر پہلے 2 درندے آ گئے۔ عابد ملہی اور شفقت بگا نے گاڑی توڑی، اور اس ماں کو اس کے بچوں کے سامنے قریبی کھیتوں میں گھسیٹ کر لے گئے۔ بچے چیختے رہے رات کی تاریکی میں کوئی سننے والا نہ تھا۔ بعد میں دونوں مجرموں کو پکڑا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔
غیرت کے نام پر قتل ہر سال ایک ہزار سے زائد قربانیاں
پاکستان میں ہر سال ایک ہزار سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں۔ ان میں سے اکثر کے قاتل کبھی سزا نہیں پاتے، کیونکہ خاندان ہی معاف کر دیتا ہے، وہی خاندان جو قاتل بھی ہے اور گواہ بھی۔ خواتین کے حقوق کی نامور وکیل عاصمہ جہانگیر نے ایک بار کہا تھا کہ پاکستان میں زیر حراست خواتین میں سے 20 فیصد تک جسمانی یا جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ انسانوں کی زندگیاں ہیں۔
قبر میں بھی لاشیں بھی محفوظ نہیں :قبرستانوں میں درندگی
2011کراچی، پاپوش نگر قبرستان: قبرستان کا مالی محمد ریاض 8 سال تک قبریں کھود کر خواتین کی لاشوں کے ساتھ بے حرمتی کرتا رہا۔ گرفتاری پر اس نے تقریباً 48 لاشوں کے ساتھ اس گھناؤ نے فعل کا اعتراف کیا۔
2019کراچی، لانڈھی ٹاؤن: ایک خاتون کو دفن کیے صرف ایک دن گزرا تھا کہ نامعلوم افراد نے قبر کھود کر لاش کی بے حرمتی کی۔
2024چک کمالہ، گجرات: ایک نوجوان لڑکی کی قبر کھودی گئی۔17 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
2024 کراچی، باغ کورنگی قبرستان : سلمان وحید کو مقامی لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑا، جب وہ ایک 55 سالہ خاتون کی تازہ قبر کھود رہا تھا۔ ملزم نے 4 خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کا اعتراف کیا، اور یہ بھی بتایا کہ وہ 2016 میں بھی اسی جرم میں گرفتار ہو چکا تھا۔
اس سب کا نتیجہ؟ کچھ علاقوں میں والدین اپنی بیٹیوں کی قبروں پر تالے لگانے لگے ہیں، کیونکہ موت کے بعد بھی ان کی بیٹیاں محفوظ نہیں۔ یہ تالہ کسی قبر پر نہیں، یہ تالہ ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ہے۔
عورت محفوظ نہیں، نہ گھر میں، نہ ہسپتال میں، نہ سڑک پر، نہ قبر میں۔ یہ صرف جرائم کی داستان نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی بےحسی کا اعلان ہے۔
ایک زخمی معاشرے کی صدا
یہ واقعات اتفاق نہیں، یہ ایک نظام کی پیداوار ہیں۔ وہ نظام جو لڑکے کو یہ سکھاتا ہے کہ عورت شے ہے، عزت ہے، ملکیت ہے، لیکن انسان نہیں۔ جب تک یہ ذہنیت موجود ہے، خواتین کا تحفظ محض ایک دعویٰ ہے۔
ڈاکٹر مہ نور پر تیزاب پھینکنے والا ایک لفٹ آپریٹر تھا، لیکن اس کے پیچھے وہ سوچ تھی جو صدیوں سے ہمارے بچوں کو پڑھائی جاتی ہے کہ عورت کی نہ کوئی معنی نہیں رکھتا، خود کو برار کا انسان سمجھنا اسکا جرم ہے۔
نور مقدم کا قاتل ایک پڑھا لکھا امیر نوجوان تھا، اس نے ثابت کیا کہ تشدد غربت کی نہیں، سوچ کی بیماری ہے۔
اور پھر وہ سچائی جس سے ہم آنکھیں چرا لیتے ہیں، جب ایک عورت مر جاتی ہے تو بھی اسے سکون نہیں ملتا۔ کئی ممالک میں قبروں سے لاشیں نکال کر بے حرمتی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے گھناؤنا جرم ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ عورت کے زندہ یا مردہ ہونے کا نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جو اسے انسان نہیں سمجھتی۔
ہم سب پر لازم ہے تعلیم اور تربیت گھر سے شروع کرے، بیٹیوں کو مضبوط بنائیں۔ بیٹوں کو سکھائیں کہ ’ناں‘ ایک مکمل جملہ ہے۔ عورت بھی انسان ہے۔ رضامندی، احترام اور انسانی وقار یہ کتابوں میں نہیں، گھروں میں پڑھائے جاتے ہیں۔
عورت محفوظ نہیں تو معاشرہ محفوظ نہیں۔ یہ لڑائی صرف خواتین کی نہیں، یہ اس پورے وقار کی لڑائی ہے جسے ہم انسانیت کہتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














