امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو اسے امریکا کی مکمل حمایت حاصل نہیں رہے گی اور وہ خود کو تنہا پائے گا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ شدید کشیدگی کے باوجود حملے روکنے کے اشارے دیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تازہ جھڑپوں نے خطے میں ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات کو جنم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں؛ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران سے معاہدہ قریب ہے، ٹرمپ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دونوں ممالک سے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امن کے لیے ’حتمی مذاکرات‘ جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ کوئی غیر دانشمندانہ اقدام اس عمل کو سبوتاژ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے براہ راست بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بی بی، آپ کو بہت محتاط رہنا ہوگا، ورنہ بہت جلد آپ خود کو تنہا پائیں گے۔‘
🚨 UPDATE: President Trump told Israeli PM Netanyahu: "Bibi, you better be CAREFUL, or you will BE ON YOUR OWN [against Iran] VERY SOON!" — Axios
Trump eventually got BOTH sides to stop firing 🙏🏻
47's team then helped LIMIT Israel's strikes against Iran as he pushes for a peace…
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) June 8, 2026
تازہ کشیدگی کا آغاز اتوار کو بیروت پر اسرائیلی بمباری کے بعد ہوا، ایران نے جواباً شمالی اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔
اس کے بعد اسرائیل نے ایرانی فضائی دفاعی نظام اور ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے حیفہ میں ایک مماثل تنصیب اور 2 اسرائیلی فضائی اڈوں پر حملے کیے۔
اگرچہ دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر حملے ہوئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر ایرانی میزائل مقبوضہ مغربی کنارے کی فضاؤں میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
ایران طویل عرصے سے لبنان میں لڑائی کے خاتمے کو امریکا کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی شرط قرار دیتا آیا ہے،
نیتن یاہو نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ ضرورت کے مطابق کارروائی جاری رکھے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران میں ’دہشتگرد حکومت‘ کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے حملے روک دیے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔
دوسری جانب ایران نے کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے، اس لیے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کا ذمہ دار بھی امریکا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی کوششیں سنجیدگی سے جاری ہیں اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا خطے کے امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اس دوران یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔













