قومی اسمبلی کے رکن نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے تیزاب گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور متاثرین کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصانات کے پیشِ نظر کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ 2026 کا بل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے اندوہناک واقعے کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج، ماہرہ خان بھی بول پڑیں
مجوزہ بل کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-بی میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے موجودہ سزاؤں کے ساتھ سزائے موت کو بھی بطور زیادہ سے زیادہ سزا شامل کیا جائے گا۔

بل میں عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانے کی موجودہ سزائیں برقرار رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بل کے متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تیزاب گردی خواتین کے خلاف ایک نہایت سفاک، غیر انسانی اور ناقابلِ معافی جرم ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد عمر بھر جسمانی معذوری، ذہنی اذیت، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: تیزاب گردی میں ملوث خاتون ساتھیوں سمیت گرفتار
بل میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 2011 میں تیزاب گردی کے خلاف سخت قوانین متعارف کرائے گئے تھے، تاہم ملک بھر میں ایسے واقعات اب بھی رونما ہو رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سزائیں مؤثر رکاوٹ بننے میں ناکام رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بل میں کہا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور قانون کو مزید سخت بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: تیزاب گردی کی شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب کیسی ہے؟
بل میں سپریم کورٹ کے ان مشاہدات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں قرار دیا گیا تھا کہ تیزاب گردی بعض پہلوؤں سے قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے، کیونکہ متاثرہ شخص پوری زندگی اس جرم کے اثرات برداشت کرتا رہتا ہے۔
مجوزہ قانون کا مقصد خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو بہتر تحفظ فراہم کرنا، مجرموں میں قانون کا خوف پیدا کرنا اور یہ واضح پیغام دینا ہے کہ پاکستان میں تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔














