عہدہ ختم تو اہمیت ختم

بدھ 10 جون 2026
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب کوئی بڑے عہدے پر بیٹھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا اس کی مٹھی میں ہے۔ دروازے پر قطاریں لگتی ہیں، فون بند نہیں ہوتا، ہر طرف سے سلام اور تعریف کی بارش ہوتی ہے۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کا عہدہ ختم ہوا ،کوئی اقتدار سے ہٹا، اس کے گرد جمع ہجوم چیونٹیوں کی طرح اس روٹی کی طرف بڑھ گیا، جہاں نئی طاقت تھی۔

ابن خلدون نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ عصبیت یعنی گروہی وفاداری اقتدار کے گرد گھومتی ہے، انسان کے گرد نہیں۔

یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ اقتدار کا وہ نچوڑ ہے جو ہر گلی، ہر دفتر، ہر دربار میں دہرایا جاتا ہے، لیکن سمجھا کبھی نہیں جاتا۔

ہر چند سال بعد ایک نیا چہرہ آتا ہے۔ نیا نعرہ، نئی امید، نئے وعدے۔

عوام ایک بار پھر یقین کر لیتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوا۔ یہ اتفاق نہیں، یہ نظام ہے۔

ابتک جو تیرے پیچھے ہجوم تھے، آج وہ چیونٹیوں کی طرح اس روٹی کے پاس جمع ہوں گے جو انہوں نے کھانی ہے۔

لیکن یہ لوگوں کی بے وفائی نہیں۔ یہ اس نظام کا نتیجہ ہے جس نے سکھایا کہ طاقتور کے ساتھ رہو تو زندہ رہو گے، کمزور کے ساتھ رہو تو مٹ جاؤ گے۔ جب نظام یہ سبق دے تو پوری قوم چیونٹی بن جاتی ہے، روٹی ڈھونڈتی ہے، وفا نہیں۔

یہاں عہدے کی قدر ہے، انسان کی نہیں۔

 تاریخ کا سب سے تکلیف دہ سبق یہی ہے۔ جو شخص کل اقتدار میں تھا، عہدہ جانے کے بعد اس کی کوئی نہیں سنتا۔ جو کل جج تھا، آج خود کٹہرے میں ہے۔ جو کل فیصلے کرتا تھا، آج فیصلوں کا انتظار کرتا ہے۔

عہدہ تھا تو فون بند نہیں ہوتا تھا، اب گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں کوئی نہیں اٹھاتا۔

دروازے پر قطاریں تھیں، اب دروازہ خاموش ہے۔ تعریفیں تھیں، اب تنقیدیں ہیں۔ لیکن انسان وہی ہے۔ صرف کرسی بدلی اور کرسی کے بدلتے ہی پوری دنیا بدل گئی۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔

کبھی جو ان کرسیوں میں بیٹھے تھے، آج جیلوں میں پڑے ہیں۔ یہ اقتدار کا وہ چکر ہے جو نہیں ٹوٹتا۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب کوئی جیل گیا تو وہی ہجوم جو کل تک جان دیں گے کی قسمیں کھاتا تھا، آج نئی روٹی کے پاس بیٹھا نظر ائے گا۔

جیل کی سلاخوں نے ہر بار یہی سچ دکھایا: اقتدار میں جتنے یار تھے، تنہائی میں اتنے ہی کم نکلے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہر حکمران نے سچائی کا سامنا کیا تنہائی میں، خاموشی میں، جیل میں یا جلاوطنی میں۔

کرسی چار دن کی چاندنی ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن جب یہ چاندنی ملتی ہے تو یہ سچ بھول جاتے ہیں۔ اور پھر اندھیری رات آتی ہے۔ ساتھ لاتی ہے وہ تنہائی جو اقتدار کے نشے میں کبھی نظر نہیں آئی تھی۔

اگر آج آپ کے دروازے پر بھیڑ ہے تو ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں: کیا یہ لوگ میرے لیے آئے ہیں یا میری کرسی کے لیے؟ اگر یہ سوال آپ کو بے چین کرے تو سمجھیں کہ ابھی ہوش باقی ہے۔

اقتدار کا نشہ سب سے خطرناک نشہ ہے کیونکہ یہ آہستہ آہستہ چڑھتا ہے، اور جب اترتا ہے تو سب کچھ لے کر جاتا ہے۔ اسی لیے ہر کوئی اس طاقت کو پکڑے رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے تاکہ حیثیت بنی رہے، اثر رسوخ قائم رہے، اہمیت زندہ رہے۔

لیکن تاریخ ہر بار ایک ہی سبق دیتی ہے: جو طاقت کے لیے سب کچھ داؤ پر لگاتا ہے، وہ آخر میں طاقت کے ساتھ سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp