وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ میں سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں کے تمام اسکولوں کا وزیر ہوں اور صوبے میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ا اولین ترجیح ہے۔
اپنے ایک بیان میں رانا سکندر حیات نے کہاکہ آٹھویں جماعت کے نتائج نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے نجی شراکت داروں کے تحت چلنے والے اسکولوں کے نتائج سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں 20 فیصد بہتر آئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پیف کے پرائیویٹ پارٹنرز کے تحت چلنے والے اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں 15 سے 20 ہزار روپے کے درمیان ہیں، اس کے باوجود ان اسکولوں کے نتائج بہتر آئے ہیں، اس لیے پیف کے کم تنخواہ لینے والے اساتذہ کو شاباش دینی چاہیے۔
وزیر تعلیم پنجاب نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل تک پیف کے اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو صرف 5 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی تھی، تاہم موجودہ حکومت نے اس صورتحال کا نوٹس لیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے پیف کے اساتذہ کی تنخواہیں 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 15 سے 20 ہزار روپے تک کردی ہیں۔
رانا سکندر حیات کے مطابق یہ نظام 2002 سے چل رہا ہے، لیکن ہماری حکومت نے اس مسئلے پر توجہ دی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ہی اساتذہ کی تنخواہوں کو 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے تک پہنچایا ہے، جبکہ وہی انہیں 40 ہزار روپے تک بھی لے جائیں گی۔
وزیر تعلیم پنجاب نے کہاکہ پیف اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے لیے دی جانے والی سبسڈی کو 2 ہزار 200 روپے تک بڑھانے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سبسڈی میں اضافے کے نتیجے میں اساتذہ کی تنخواہیں بھی بڑھیں گی اور انہیں 35 ہزار روپے تک تنخواہ مل سکے گی۔
رانا سکندر حیات نے اس عزم کا اظہار کیاکہ پنجاب حکومت تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی فلاح و بہبود اور نجی شراکت داری کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی مزید مضبوطی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔













