خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع سرکاری درس گاہ ‘گومل یونیورسٹی’ نے اپنی ہی 542 ڈگریوں کو مشکوک قرار دے دیا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ غیر قانونی طریقے سے جاری کی گئی تھیں۔
جامعہ میں مالی بے ضابطگیوں اور جعلی ڈگریوں کی تحقیقات کے لیے گزشتہ ماہ ایک داخلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں جعلی ڈگریوں کے اجرا کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں تقریباً 542 ڈگریوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ مالی بے ضابطگیوں کی باقاعدہ اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
جعلی ڈگریاں کب اور کیسے جاری ہوئیں؟
جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ جعلی ڈگریاں کئی سالوں کے دوران جاری کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سنگین بے ضابطگیاں بالترتیب 2018 سے 2022 اور 2019 سے 2023 کے تعلیمی سیشنز کے دوران ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:گومل یونیورسٹی میں فائرنگ، فیصل کریم کنڈی کا حکومت سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ
یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالجوں میں پنجاب کے 2 کالج بھی شامل ہیں۔ جعلی قرار دی جانے والی 542 ڈگریوں میں سے 153 ڈگریاں جوہر آباد کے ‘پنجاب کالج آف ایلیگنس’ جبکہ 361 ڈگریاں فیصل آباد کے ‘چناب کالج آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز’ سے منسلک پائی گئی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے الحاق یافتہ نجی کالجوں کے ریکارڈ، فیسوں اور امتحانی معاملات کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کیا۔
اس جانچ پڑتال کے دوران جعلی ڈگریوں اور مالی خرد برد کے شواہد ملے، جس کے بعد باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور ان ڈگریوں کو جعلی قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اسناد کے اجرا کے دوران یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
مالی بے ضابطگیاں اور انتظامی غفلت
جعلی ڈگریوں کی تحقیقات کے دوران یہ پریشان کن انکشاف بھی ہوا کہ نہ صرف قواعد کے خلاف ڈگریاں بانٹی گئیں بلکہ مالی بے ضابطگیوں، مشکوک بینک ٹرانزیکشنز اور شدید انتظامی غفلت کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔
ابتدائی چھان بین کے دوران سینکڑوں ایسی ڈگریاں سامنے آئیں جن کے اجرا کے طریقہ کار اور متعلقہ طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:گومل یونیورسٹی میں لڑکے کا لڑکی کے روپ میں رقص، 2 اساتذہ معطل
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ بعض طلبہ کے داخلوں اور امتحانی ریکارڈ میں بھی واضح تضادات موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے طلبہ کو بھی ڈگریاں جاری کر دی گئیں جن کا یونیورسٹی کے سرکاری ڈیٹا بیس میں کوئی نام و نشان یا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا۔
اس صورتحال نے یونیورسٹی کے امتحانی اور الحاقی نظام کی شفافیت کا پول کھول دیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں جن مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں بعض بینک ڈپازٹ سلپس کو مشکوک پایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی معاملات میں فیسوں اور دیگر واجبات کی رقوم یونیورسٹی کے سرکاری بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے کے بجائے دیگر خفیہ ذرائع سے وصول کی گئیں، جس سے یونیورسٹی کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
ایک ایک ڈگری کی تصدیق کریں گے
رجسٹرار گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان، ظاہر شاہ نے جعلی ڈگری کیس پر میڈیا بریفنگ کے دوران 542 جعلی ڈگریوں کے اجرا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈگریاں صرف 2 تعلیمی سیشنز (2018-2022 اور 2019-2023) کے دوران جاری کی گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ڈگریاں جامعہ گومل سے الحاق شدہ کالجوں کے نام پر جاری ہوئیں اور خود ان کالجوں کی انتظامیہ نے بھی یونیورسٹی کو اس مہم جوئی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو 30 دن کے اندر اپنی حتمی رپورٹ جمع کرائے گی‘۔
ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مذکورہ عرصے کے دوران تعینات رہنے والے کنٹرولر امتحانات، 2 ڈائریکٹرز اور ایک نائب قاصد کو معطل کر کے جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔
جعلی ڈگریوں کے اجرا اور مالی خرد برد میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کے لیے کیس وفاقہ تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوایا جا رہا ہے۔
رجسٹرار ظاہر شاہ نے واضح کیا کہ گومل یونیورسٹی سے الحاق شدہ دیگر کالجوں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ اب تک 10 کالجوں کا ریکارڈ چیک کیا جا چکا ہے جبکہ 60 کالجوں کا ریکارڈ ابھی جانچنا باقی ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کے باقاعدہ طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی ڈگریوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اور نہ ہی یونیورسٹی کی تاریخ میں کبھی کسی ریگولر طالب علم کو کوئی جعلی ڈگری جاری کی گئی۔
یہ تمام ڈگریاں صرف الحاق شدہ کالجوں کے کوٹے پر جاری ہوئیں اور اب یونیورسٹی انتظامیہ ایک ایک ڈگری کی باقاعدہ تصدیق کرے گی۔













