امریکا کا اہم نگرانی کا قانون ’فارن انٹیلیجنس سرویلنس ایکٹ (ایف آئی ایس اے) سیکشن 702‘ 12 جون کو ختم ہونے جا رہا ہے، جس کے مستقبل پر کانگریس، سیکیورٹی اداروں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں اختلافات جاری ہیں۔
یہ قانون امریکی حکام کو بیرون ملک موجود غیر ملکی افراد کی مواصلاتی معلومات جمع کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران امریکی شہریوں کی فون کالز، ای میلز اور پیغامات بھی نگرانی کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
Explainer: What is FISA Section 702, the U.S. surveillance law set to expire June 12? https://t.co/Sd79Fj1blF
— Reuters Legal (@ReutersLegal) June 9, 2026
ایف آئی ایس اے سیکشن 702 کو 2008 میں منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت نیشنل سکیورٹی ادارے بیرون ملک موجود غیر امریکی افراد کو ہدف بنا سکتے ہیں، لیکن قانون کے مطابق امریکی شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی، نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے)، سی آئی اے اور دیگر ادارے بعض اوقات بغیر وارنٹ امریکی شہریوں سے متعلق معلومات بھی تلاش کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ زیر نگرانی غیر ملکی افراد سے رابطے میں ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیج سکتے ہیں، امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کردیا
یہ قانون رواں سال 20 اپریل کو ختم ہو چکا تھا، تاہم کانگریس نے پہلے 10 دن اور بعد میں مزید 45 دن کی توسیع دی۔ اس دوران قانون میں اصلاحات اور امریکی شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے وارنٹ کی شرط شامل کرنے پر بحث جاری رہی۔
اگر سیکشن 702 کی دوبارہ منظوری نہ دی گئی تو بھی بعض حالات میں نگرانی کا عمل جاری رہ سکتا ہے، تاہم ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں واضح قانونی تحفظ نہ ہونے کی صورت میں معلومات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔
امریکی حکام کے پاس نگرانی کے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں جن میں چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا نگرانی، فون ٹریکنگ نظام اور دیگر جدید آلات شامل ہیں۔














