ایسے وقت میں جب پاکستان میں قرضوں کی ادائیگی پر تقریباً 8.2 کھرب روپے خرچ ہو رہے ہیں جو وفاقی اخراجات کا لگ بھگ 47 فیصد بنتے ہیں ایک نئی شائع ہونے والی کتاب نے ایک اہم مگر متنازع سوال کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے کہ کیا تجارتی بینکوں کو قرضوں کے ذریعے نئی رقم تخلیق کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے؟
یہ بھی پڑھیں: افراط زر میں کمی؛ کیا شرح سود کو 6 فیصد تک لایا جا سکتا ہے؟
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اور پالیسی ریسرچ انیشی ایٹو فار زکوٰۃ بیسڈ، انٹرسٹ فری اکانومی (پرائز) کے اشتراک سے شائع ہونے والی کتاب ’بریکنگ دی ٹریپ آف ڈیٹ، انفلیشن، انٹرسٹ اینڈ پاورٹی‘ کے مصنفین قانط خلیل اللہ اور صہیب عمر ہیں جو دونوں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ہیں اور پاکستان کے مالیاتی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے مصنفین نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قرض پر مبنی مالیاتی نظام میں تجارتی بینکوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرض جاری کرکے نئی رقم تخلیق کریں۔
ان کے مطابق یہی طریقۂ کار مسلسل افراطِ زر، سرکاری و نجی قرضوں میں اضافے، دولت کے ارتکاز اور مالیاتی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
مصنفین نے کہا کہ نجی قرض دہی کے ذریعے رقم کی تخلیق اگرچہ موجودہ نظام کا معمول ہے لیکن اس کی ایک بھاری سماجی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اثاثوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں، معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے اور خطرات عوام پر منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ منافع نجی شعبے کے پاس رہتا ہے۔
مزید پرھیے: ایف بی آر نے 11 ماہ میں 99.8 فیصد ہدف حاصل کر لیا، مالی بحران کی خبروں کی تردید
اس کے متبادل کے طور پر کتاب میں فل ریزرو بینکاری کے نظام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس ماڈل کے تحت رقم کی تخلیق ریاستی اختیار بن جاتی ہے، جبکہ بینکاری سرگرمیوں کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں محفوظ امانتی خدمات اور خطرات پر مبنی سرمایہ کاری کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
مصنفین کے مطابق اس تبدیلی سے حکومتی قرضوں کے بوجھ میں کمی، ساختی افراطِ زر پر قابو، مالیاتی استحکام میں بہتری اور مالیاتی شعبے کو اسلامی مالیات کے اصولوں سے زیادہ ہم آہنگ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تقریب رونمائی میں ماہرینِ معاشیات، پالیسی سازوں، بینکاروں، اساتذہ اور شریعہ اسکالرز نے شرکت کی اور کتاب میں پیش کیے گئے نکات پر تبادلۂ خیال کیا۔
شرکا میں آئی پی ایس کے نائب چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق نائب صدر اور عسکری بینک کےرکن شریعہ بورڈ پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری، این آئی بی اے ایف، اسٹیٹ بینک کے سابق سربراہ احمد وسیم اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے سابق لیڈ ریسرچر ڈاکٹر سلمان سید علی شامل تھے۔
شرکا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فل ریزرو بینکاری کا تصور مرکزی دھارے کی معاشی فکر میں اب بھی ایک متنازع موضوع ہے تاہم متعدد ماہرین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کتاب یہ اہم سوال اٹھاتی ہے کہ رقم کی تخلیق کے عمل سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے اور اس کی سماجی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں نوٹ چھاپ کر قرض لینے کا رجحان، ماہرینِ معیشت کا انتباہ
شرکا نے مصنفین کو روایتی سوچ سے ہٹ کر ایک منفرد اور قابلِ غور نقطۂ نظر پیش کرنے پر سراہا اور اس موضوع پر پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ حلقوں کے درمیان مزید وسیع مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے معاشی مستقبل میں بامعنی پیشرفت کے لیے مروجہ مفروضات کو چیلنج کرنا اور کھلے علمی مباحثے کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔














