امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام نے ان سے براہِ راست رابطہ کر کے امریکی فضائی حملے روکنے کی درخواست کی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں ایک نیا اور غیر معمولی سفارتی موڑ سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف اپنے چیف فارن کورسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ سے گفتگو میں کیا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے یہ رابطہ اس وقت کیا گیا جب امریکا نے ایران میں اہداف پر شدید نوعیت کے حملے کیے۔
Trump Speaks to Fox on Bombing Iran: Trey Yingst spoke with
President Trump tonight as he oversaw the U.S. military strikes against Iran from the Situation Room.The President told Yingst that he spoke directly with Iranian officials tonight who asked him to stop bombing.… pic.twitter.com/oxI8x7i3Vk
— The Jewish Voice (@TJVNEWS) June 11, 2026
ٹرمپ کے مطابق امریکی کارروائی کے دوران 49 ٹوماہاک میزائل فائر کیے گئے جبکہ لڑاکا طیاروں نے ایران کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے مبینہ طور پر تہران سے تقریباً 40 میل دور اور خلیج فارس کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں کیے گئے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران نے جاری بحران کے خاتمے کیلئے معاہدہ نہ کیا تو امریکا اپنی فوجی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے سخت لہجے نے خطے میں پہلے سے جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟
ٹرمپ کے مطابق ایران کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ مزید اشتعال انگیزی کی صورت میں امریکا بھرپور ردعمل دے گا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنی شرائط پر خطے میں استحکام چاہتا ہے اور کسی بھی پیش رفت کے بغیر دباؤ جاری رکھے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔














