ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ متحدہ عرب امارات ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم ابوظبی نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے کسی بھی منجمد اثاثے کو نہ تو جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی منتقل کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے پس منظر میں متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے 10 سے 20 ارب ڈالر تک کے فنڈز جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس رقم میں سے 3 ارب ڈالر پہلے ہی دستیاب کرائے جا چکے ہیں، جبکہ اس اقدام کا مقصد ایران کی جانب سے امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
The UAE has agreed to unlock billions of dollars for Iran, pursuing a tactical shift after weeks of Iranian attacks on the Gulf state, four sources told the Reuters news agency. https://t.co/Jn0LhAgIXU
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 12, 2026
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ انتظام ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر مذاکرات کا حصہ ہے، جن میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی، ایرانی جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم معاملات زیر بحث ہیں۔
تاہم رائٹرز کی رپورٹ کے فوری بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں میں شائع ہونے والی یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ایران کے کسی بھی منجمد فنڈ کو امارات کے ذریعے جاری یا منتقل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟
اماراتی حکام نے میڈیا سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ معلومات شائع کرنے سے گریز کیا جائے اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے۔ تاہم ایک اماراتی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو منجمد اثاثوں تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی مراعات ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ فنڈز کے اجرا سے متعلق اطلاعات اور تردید نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیاں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو نہ صرف ایران پر اقتصادی دباؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔













