خطے میں امن کی کوششیں تیز، ایران کے منجمد اثاثوں پر نئی بحث چھڑ گئی

ہفتہ 13 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے دوران یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ متحدہ عرب امارات ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم ابوظبی نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے کسی بھی منجمد اثاثے کو نہ تو جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی منتقل کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے پس منظر میں متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے 10 سے 20 ارب ڈالر تک کے فنڈز جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس رقم میں سے 3 ارب ڈالر پہلے ہی دستیاب کرائے جا چکے ہیں، جبکہ اس اقدام کا مقصد ایران کی جانب سے امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ انتظام ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر مذاکرات کا حصہ ہے، جن میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی، ایرانی جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم معاملات زیر بحث ہیں۔

تاہم رائٹرز کی رپورٹ کے فوری بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں میں شائع ہونے والی یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ایران کے کسی بھی منجمد فنڈ کو امارات کے ذریعے جاری یا منتقل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟

اماراتی حکام نے میڈیا سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ معلومات شائع کرنے سے گریز کیا جائے اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے۔ تاہم ایک اماراتی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو منجمد اثاثوں تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی مراعات ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ فنڈز کے اجرا سے متعلق اطلاعات اور تردید نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیاں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو نہ صرف ایران پر اقتصادی دباؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات سستی، حکومت کی جانب سے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

بیرسٹر عقیل نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کردی، بیوروکریسی کے احتساب کا مطالبہ

لوئر چترال میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال، دریا میں پھنسے 2 افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری

ویڈیو

ن لیگ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں میدان مار لیا، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات

اسلام آباد میں احتجاج کی کال: مارگلہ کے دامن میں پھر سے کنٹینرز کے ’پہاڑ‘ کھڑے ہوگئے

آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات کے دو مراحل مکمل، نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش، وزیراعظم کون بنے گا؟

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ