اگر آپ نے کبھی ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک طویل فضائی سفر کیا ہے تو یقیناً آپ نے جیٹ لیگ کا تجربہ بھی کیا ہوگا۔ یہ صرف تھکاوٹ یا نیند کی کمی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جو جسم، دماغ اور مختلف اعضا کے معمول کے افعال کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکون، سادگی اور فطرت کا سنگم: نارڈک ممالک کے سمر کیبن کیوں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق جیٹ لیگ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان مختصر وقت میں کئی ٹائم زون عبور کر لیتا ہے جبکہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی ابھی بھی پرانے وقت کے مطابق کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند، بھوک، ہاضمہ، توجہ اور مزاج سمیت کئی جسمانی نظام متاثر ہوتے ہیں۔
جیٹ لیگ صرف تھکاوٹ نہیں
جیٹ لیگ کی سب سے نمایاں علامت شدید تھکن ہے لیکن اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد کو سر درد، جسم میں درد، متلی، قبض یا اسہال، توجہ میں کمی، بھولنے کی عادت، ذہنی دھند، چڑچڑاپن اور بے دلی جیسی علامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام علامات اس لیے پیدا ہوتی ہیں کیونکہ جسم کا قدرتی نظام اچانک نئے وقت کے مطابق خود کو ڈھال نہیں پاتا۔
جسم کی حیاتیاتی گھڑی کیسے کام کرتی ہے؟
انسانی جسم تقریباً 24 گھنٹے کے ایک قدرتی چکر پر چلتا ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ یہ نظام ہمیں بتاتا ہے کہ کب سونا، کب جاگنا، کب کھانا اور کب متحرک رہنا ہے۔
مزید پڑھیے: بارش میں باہر نکلنے کے 4 حیرت انگیز فوائد، تحقیق کیا کہتی ہے؟
آنکھوں میں موجود مخصوص روشنی محسوس کرنے والے خلیات اندھیرا ہونے کا احساس دماغ تک پہنچاتے ہیں جس کے بعد دماغ کے پچھلے حصے میں موجود پائنل غدود نیند کا ہارمون میلاٹونن خارج کرتا ہے اور یہی ہارمون جسم کو سونے کے لیے تیار کرتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سرکیڈین نیورو سائنس کے پروفیسر رسل فوسٹر کے مطابق دماغ کا ایک حصہ جسے سپرا کیازمیٹک نیوکلیائی کہا جاتا ہے جسم کی اس حیاتیاتی گھڑی کا منتظم ہوتا ہے۔ تاہم جب انسان ایک ہی دن میں کئی ٹائم زون عبور کرتا ہے تو یہ نظام وقتی طور پر درہم برہم ہو جاتا ہے۔
کن افراد میں جیٹ لیگ زیادہ شدید ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق جیٹ لیگ کی شدت ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار جینیاتی ساخت، استعمال کی جانے والی ادویات، عبور کیے گئے ٹائم زونز کی تعداد اور سفر کی سمت پر بھی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں
عام طور پر زیادہ ٹائم زون عبور کرنے سے علامات بڑھ جاتی ہیں۔ مشرق کی جانب سفر کرنے سے جیٹ لیگ زیادہ شدید محسوس ہوتا ہے۔ سردیوں یا مختصر دنوں کے دوران بھی اس کے اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
فضائی عملہ سب سے زیادہ متاثر
اگرچہ عام مسافروں کے لیے جیٹ لیگ عارضی مسئلہ ہوتا ہے لیکن پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لیے یہ ان کی ملازمت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔
ایک تحقیق میں مختلف شیڈول پر کام کرنے والی خواتین فضائی میزبانوں کا جائزہ لیا گیا۔ جن فضائی میزبانوں کو پروازوں کے درمیان کم آرام ملتا تھا اور وہ زیادہ ٹائم زون عبور کرتی تھیں ان کے جسم میں کورٹیسول نامی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون کی مقدار نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
قلیل مدت میں کورٹیسول جسم کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ جاگنے اور دباؤ والے حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے لیکن اگر اس کی مقدار طویل عرصے تک زیادہ رہے تو مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دماغ بھی متاثر ہوتا ہے
امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں ہونے والی ایک تحقیق میں چوہوں کو ایسا شیڈول دیا گیا جو ہفتے میں 2 بار نیویارک سے پیرس کے سفر کے برابر تھا۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ مسلسل جیٹ لیگ کا شکار چوہے یادداشت اور سیکھنے والے آسان کام بھی درست طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے تھے۔
حیران کن بات یہ تھی کہ ایک ماہ بعد بھی ان کی دماغی کارکردگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ دماغ کے ہپوکیمپس نامی حصے میں نئے دماغی خلیات بننے کا عمل بھی متاثر ہوا جبکہ یہی حصہ یادداشت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح فضائی میزبانوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں مصروف شیڈول رکھنے والے عملے کے دماغ کے بعض حصے نسبتاً چھوٹے پائے گئے اور ان کی یادداشت کے ٹیسٹوں کے نتائج بھی کمزور رہے۔
کیا جیٹ لیگ کینسر کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے؟
سائنسی تحقیقات میں ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ مسلسل جیٹ لیگ صحت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
لیبارٹری میں کیے گئے تجربات میں مسلسل جیٹ لیگ کے شکار چوہوں میں رسولیوں کی نشوونما زیادہ تیزی سے دیکھی گئی جبکہ جب ان کی حیاتیاتی گھڑی دوبارہ معمول پر لائی گئی تو رسولیوں کی رفتار کم ہو گئی۔
مزید پڑھیں: قیلولہ یا دن کے وقت سونا ذہنی صحت کے لیےکیوں اچھا ہے؟
ایک اور تحقیق میں مسلسل جیٹ لیگ کے باعث چوہوں میں پہلے غیر الکوحلک فیٹی لیور، پھر ہیپاٹائٹس، جگر میں زخم بننے اور آخرکار جگر کے ایک قسم کے سرطان تک بیماری کے بڑھنے کا مشاہدہ کیا گیا۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ تحقیقات جانوروں پر کی گئی ہیں اس لیے ان کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
فضائی عملے میں سرطان کی شرح زیادہ کیوں؟
کئی مشاہداتی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بار بار مختلف ٹائم زون عبور کرنے والے فضائی عملے میں بعض اقسام کے سرطان کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔
مثلاً کینیڈا کے پائلٹس میں پروسٹیٹ کینسر کی شرح نسبتاً زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیے: ذہنی، جسمانی یا اعصابی بے چینی اور دباؤ کے شکار لوگ ورزش کی عادت اپنائیں، ماہرین
متعدد مطالعات کے مشترکہ تجزیے میں خواتین فضائی میزبانوں میں چھاتی کے سرطان اور جلد کے سرطان میلانوما کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
تاہم سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ ان مطالعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف جیٹ لیگ ہی اس کا سبب ہے کیونکہ پرواز کے دوران کائناتی شعاعوں سمیت دیگر عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جیٹ لیگ سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگرچہ جیٹ لیگ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن اس کے اثرات کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔
اگر آپ مشرق کی جانب سفر کر رہے ہوں تو سفر سے چند روز پہلے ہر روز ایک سے 2 گھنٹے پہلے سونے کی کوشش کریں جبکہ مغرب کی جانب سفر کی صورت میں معمول سے ایک سے 2 گھنٹے دیر سے سونا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
میلاٹونن استعمال کرنا چاہیے یا نہیں؟
بعض افراد نیند کے ہارمون میلاٹونن کی دوا استعمال کرتے ہیں تاکہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی جلد نئے وقت سے ہم آہنگ ہو سکے۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق میلاٹونن بعض افراد میں جیٹ لیگ کی علامات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن اس کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اسی لیے مختلف ممالک کی طبی ہدایات بھی مختلف ہیں۔ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن مسافروں کے لیے اس کے استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے جبکہ برطانیہ کا این ایچ ایس اس کے مؤثر ہونے کے شواہد کو ناکافی قرار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ میلاٹونن کے غلط وقت پر استعمال سے جسمانی گھڑی مزید خراب ہو سکتی ہے اور جیٹ لیگ کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چکر آنا، متلی اور بعض افراد میں دیگر مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں اس لیے کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
روشنی سے فائدہ اٹھائیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیٹ لیگ سے نمٹنے کا نسبتاً محفوظ طریقہ یہ ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد روشنی سے صحیح وقت پر فائدہ اٹھایا جائے۔
مثلاً اگر آپ مغرب کی طرف سفر کر رہے ہوں اور صبح روانہ ہو کر 5 ٹائم زون عبور کریں تو منزل پر پہنچنے کے بعد کچھ وقت باہر گزارنا جسم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ابھی دن باقی ہے جس سے حیاتیاتی گھڑی جلد نئے وقت کے مطابق ڈھلنے لگتی ہے۔
مزید پڑھیے: غروب آفتاب دیکھنا صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟ نئی تحقیق میں دلچسپ فوائد سامنے آگئے
بعض حالات میں دھوپ سے بچنے کے لیے عینک پہننا بھی ضروری ہو سکتا ہے تاکہ روشنی جسمانی گھڑی کو غلط اشارہ نہ دے۔
ورزش بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد ہلکی یا درمیانی شدت کی ورزش بھی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو نئے وقت کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
اسی وجہ سے پیشہ ور کھلاڑیوں کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ جیٹ لیگ کے دوران مکمل آرام کے بجائے کم شدت کی ٹریننگ جاری رکھیں۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرین کے مطابق جیٹ لیگ زیادہ تر لوگوں کے لیے ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے لیکن اس کا بنیادی علاج یہی ہے کہ جسم کو جلد از جلد نئے ٹائم زون کے مطابق ڈھال لیا جائے۔
وہ کہتے ہیں مناسب نیند، درست وقت پر روشنی حاصل کرنا، ہلکی ورزش اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے علاج اختیار کرنا اس مسئلے کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جسمانی گھڑی کو جلد نئے وقت کے مطابق ڈھالنا ضروری
ماہرین کے مطابق جیٹ لیگ سے جلد نجات حاصل کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو جتنی جلد ممکن ہو نئی منزل کے مقامی وقت کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ بعض افراد جہاز میں سوار ہوتے ہی اپنی گھڑی نئی منزل کے وقت کے مطابق سیٹ کر لیتے ہیں تاکہ ذہنی طور پر خود کو نئے ٹائم زون کے لیے تیار کر سکیں۔
مزید پڑھیں: کیا نفسیاتی تھراپی عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر سفر کے دوران ہی نئی منزل کے مقامی وقت کے مطابق کھانا کھایا جائے تو اس سے بھی جسم کو نئے وقت کے مطابق ڈھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگرچہ عام مسافروں کے لیے دورانِ پرواز اپنی مرضی کے مطابق کھانے کا وقت یا مینو منتخب کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر پروازوں میں کھانا مقررہ اوقات میں ہی فراہم کیا جاتا ہے تاہم منزل پر پہنچنے کے بعد مقامی اوقات کے مطابق کھانا کھانے کی عادت اپنانا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس سے جگر اور لبلبے (پینکریاز) میں موجود حیاتیاتی گھڑیاں بھی نئے وقت کے مطابق خود کو ڈھالنے لگتی ہیں جس سے جسم کے غذائی افعال اور میٹابولزم کو معمول پر آنے میں مدد ملتی ہے۔
زیادہ فکر بھی مسئلہ بڑھا سکتی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات جیٹ لیگ کا خوف خود بھی اس کی شدت بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کی ایک تحقیق، جسے ابھی سائنسی جرائد میں شائع یا ہم مرتبہ جائزے سے نہیں گزارا گیا میں کم تعداد میں طویل فضائی سفر کرنے والے مسافروں سے پوچھا گیا کہ وہ جیٹ لیگ کے بارے میں کتنے پریشان ہوتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد پہلے سے ہی جیٹ لیگ کے بارے میں زیادہ خوفزدہ تھے ان میں اس کی علامات بھی زیادہ شدید نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’بلائنڈ سائیڈ ڈائیورس‘: اس عمل کا بڑھتا رجحان جدید رشتوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ ’نوسیبو ایفیکٹ‘ ہو سکتی ہے جس میں منفی توقعات خود ہی علامات کو زیادہ شدت سے محسوس کروا دیتی ہیں۔
آخرکار جسم خود بھی نئے وقت کا عادی ہو جاتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیٹ لیگ سے بچنے کے لیے مناسب حکمت عملی اختیار کرنا مفید ضرور ہے لیکن اس کے بارے میں حد سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انسانی جسم وقت گزرنے کے ساتھ خود بھی نئے ٹائم زون سے مطابقت پیدا کر لیتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق اگر سفر مشرق کی جانب کیا گیا ہو تو جسم عموماً روزانہ تقریباً ایک گھنٹے کی رفتار سے نئے وقت کے مطابق ڈھلتا ہے جبکہ مغرب کی جانب سفر کی صورت میں یہ رفتار تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ تک ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟
ماہرین کے مطابق ایک ہفتے کے اندر زیادہ تر افراد کی طبیعت معمول پر آ جاتی ہے اور پھر سفر کی خوشگوار یادیں باقی رہ جاتی ہیں جبکہ جیٹ لیگ کی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔














