وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ریاست ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے اور حکومت اپنی رٹ ہر صورت برقرار رکھے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی احتجاجی کال واپس لے، جس کے بعد تمام معاملات پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہاکہ وہ یہ ہرگز نہیں کہیں گے کہ اس وقت آزاد کشمیر کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ ان کے بقول ریاست کو ایک مشکل آزمائش کا سامنا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔
انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران جان سے جانے والے افراد کے نقصان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب مذاکرات کا عمل شروع ہوا تھا تو اس دوران 14 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، تاہم ایکشن کمیٹی نے ان کی بات کو نہ سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی اس پر غور کیا۔
مفاہمتی عمل میں حکومت کا کردار مسترد کیا گیا
فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ مفاہمتی عمل میں حکومت آزاد کشمیر کے کردار کو خود ایکشن کمیٹی نے قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
ان کے مطابق کالعدم کمیٹی نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہیں ریاستی حکومت کا کردار قبول نہیں اور وہ براہِ راست وفاق کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن اب تمام تر تنقید آزاد کشمیر حکومت پر کی جارہی ہے۔
وعدوں پر پیش رفت کا دعویٰ
انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بات کا ذکر کیا کہ حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت جو اقدامات ریاستی حکومت کی ذمہ داری تھے، وہ مکمل کر دیے گئے ہیں، جبکہ وفاق کی جانب سے باقی رہ جانے والے امور کو بھی بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
مذاکرات کے لیے احتجاج ختم کرنے کی شرط
وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہاکہ ریاست اپنی عملداری قائم رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاجی کال واپس لے لی جائے تو ہر معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں اس انداز کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔
انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے کال آف کرنا ضروری ہے، اس کے بعد تمام معاملات زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔
خواتین اور بچوں کو تحریک کا حصہ بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جو لوگ بھی کسی تحریک یا تاریخ کا حصہ بنتے ہیں، وہ اکثر بے قصور ہوتے ہیں۔ انہیں مختلف خواب دکھائے جاتے ہیں اور وہی باتیں بتائی جاتی ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔














