امریکی کمپنی ویسٹ (Vast) نے ایسے خلائی اسٹیشنز تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جو مصنوعی کششِ ثقل پیدا کر کے خلا میں انسانی صحت کو بہتر رکھ سکیں، تاکہ مریخ اور اس سے آگے طویل مشنز ممکن ہو سکیں۔
خلا میں مصنوعی کششِ ثقل والے اسٹیشنز انسانوں کے لیے لمبے اور محفوظ خلائی سفر کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں، جس سے نظامِ شمسی میں مزید دور تک تحقیق اور ممکنہ انسانی آبادکاری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

امریکی کمپنی ویسٹ 2027 میں اپنا پہلا خلائی رہائشی ماڈیول ’ہیوین-1‘ لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اس کے بعد 2030 تک ’ہیوین-2‘ کو ایک بڑے سائنسی پلیٹ فارم کے طور پر فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان دونوں منصوبوں کا مقصد خلا میں سائنسی تحقیق، خصوصاً اسٹیم سیلز اور پروٹین کرسٹل گروتھ جیسے تجربات کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس راکٹ کا ناکارہ حصہ چاند کے مدار میں، اگست میں بڑے ٹکراؤ کا امکان
ماہرین کے مطابق خلا میں طویل قیام کے دوران انسانوں کو صفر کششِ ثقل کے باعث پٹھوں کی کمزوری اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی کششِ ثقل کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں خلائی اسٹیشن کو گھما کر سینٹری فیوگل فورس پیدا کی جاتی ہے، جو خلا بازوں کو زمین جیسا احساس فراہم کرتی ہے۔

ویسٹ کے نائب صدر ٹام شیلے کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان زیادہ دیر تک خلا میں رہ سکتے ہیں اور مریخ سے بھی آگے مشنز ممکن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کا بنیادی مقصد انسانوں کو خلا میں محفوظ رکھنا ہے۔
مصنوعی کششِ ثقل کا خیال نیا نہیں ہے اور اس پر پہلے بھی مختلف سائنسی منصوبے اور نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، تاہم لاگت اور تکنیکی مشکلات کے باعث انہیں عملی شکل نہیں دی جا سکی۔ اب مختلف کمپنیاں اور ادارے اس سمت میں دوبارہ سرگرم ہیں، جسے مستقبل کی خلائی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














