بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی جس کے باعث 7 کان کن جاں بحق ہوگئے جبکہ 25 مزدور تاحال کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں جن کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دکی میں کوئلہ کان حادثہ: ایک محنت کش جاں بحق، حفاظتی اقدامات کا فقدان 8 برسوں میں 618 جانیں نگل چکا
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق واقعہ سورینج کے علاقے اسپین کاریز میں پیش آیا جہاں گیس دھماکے کے بعد کان کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
امدادی ٹیمیں کان کے اندر پھنسے مزدوروں تک رسائی کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان: کوئلہ کانیں محنت کشوں کے لیے قبریں کیوں ثابت ہو رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر آف مائنز اور پی ڈی ایم اے کے حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچ گئے جہاں متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان کے مطابق کان میں پھنسے مزدوروں تک پہنچنے کے لیے ایگزاسٹ سسٹم کی مدد سے گیس کے اخراج اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب تک 7 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ باقی 25 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: دکی: کوئلہ کانوں پر مسلح افراد کا حملہ، 20 کان کن ہلاک
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔














