امریکی ریاست میسوری میں ایک اسکائی ڈائیونگ طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 11 اسکائی ڈائیورز اور ایک پائلٹ سمیت تمام 12 افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق اسکائی ڈائیونگ کمپنی کے زیر استعمال طیارے نے اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر پرواز بھری۔
بیٹس کاؤنٹی ایمرجنسی مینجمنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ طیارہ مطلوبہ بلندی حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اس نے اچانک بائیں جانب تیز موڑ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاگارڈیا میں خوفناک طیارہ حادثہ، فضائی میزبان معجزانہ طور پر کیسے زندہ بچ گئیں؟
بعد ازاں طیارہ بٹلر میموریل ایئرپورٹ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے پر گر کر تباہ ہوگیا۔
بیٹس کاؤنٹی کے شیرف چیڈ اینڈرسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ واقعے کو ’بڑے جانی نقصان‘ کے حادثے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ کوئی کمرشل ایئرلائن نہیں تھا بلکہ مقامی ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والا ایک مقامی طیارہ تھا۔
Sky divers plane crash in Missouri about 60 miles south of KC. All on board perished. 11 sky divers plus the pilot
Unknown cause of crash at this time
This is the apparent aircraft involved based on reported time of takeoff and incident location https://t.co/87I3Gfb5D2 pic.twitter.com/AGGEtLxz0z
— WindyCity Weather and News (@WindyCityWxMan) June 14, 2026
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق حادثے کا شکار طیارہ پیسیفک ایرو اسپیس پی 750 ماڈل کا تھا اور یہ ایئرپورٹ سے روانگی کے دوران گر کر تباہ ہوا۔
ادارے نے بتایا کہ حادثے کے وقت طیارے کو فضائی ٹریفک کنٹرول کی خدمات فراہم نہیں کی جا رہی تھیں کیونکہ اس فضائی حدود میں پرواز کے لیے مسلسل رابطہ ضروری نہیں تھا۔
مقامی میڈیا کے مطابق امدادی اہلکاروں نے حادثے کے بعد علاقے کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی اسکائی ڈائیور نے حادثے سے قبل طیارے سے چھلانگ لگائی تھی یا نہیں۔
مزید پڑھیں: ‘سیٹ تبدیل نہ کرتا تو آج زندہ نہ ہوتا’ طیارہ حادثہ میں بچ جانے والا خوش قسمت مسافر
شیرف چیڈ اینڈرسن نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے بعض اہلِ خانہ نے حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تاہم حکام نے تاحال متاثرین کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
بٹلر شہر امریکی شہر کنساس سٹی کے جنوبی علاقے سے تقریباً 50 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق حادثے کی تحقیقات نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی سربراہی میں جاری ہیں۔













