امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا کی جانب سے مکمل طور پر طے پا چکا ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان 100 روز سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کے بعد ایرانی جوہری پروگرام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی سے متعلق تفصیلی مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت شروع، جنوبی راستہ مکمل طور پر محفوظ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کا عمل جاری ہے اور اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بحال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جس کے بعد اس معاہدے کے عملی مراحل کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جمعہ تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران طے شدہ باتوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کرےگا تو پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی، تہران اب ایٹمی پروگرام جاری نہیں رکھ سکے گا اور ہم اس کی مکمل نگرانی کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا اور خطے میں امن قائم کرنا ہے، اور طے پانے والا ایٹمی معاہدہ انتہائی شاندار ہے۔
قبل ازیں سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور متعدد جہاز تیل کی کھیپ لے کر اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا ایک ایسے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو 100 روز سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کی بنیاد فراہم کرے گا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام، بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان اس اہم پیشرفت کے بعد عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور قیمتوں کے حوالے سے شدید بے یقینی پیدا کر دی تھی۔
مزید پڑھیں: 19 جون کو جنیوا میں ایران امریکا امن معاہدہ تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف
اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں، تاہم اسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔














