سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملک بھر کی عدالتوں کو غیر قانونی بے دخلی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت
5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات 60 دن کے اندر نمٹائے جائیں اور ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف آئینی تقاضا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے اور تاخیر کی صورت میں متعلقہ عدالت کو معقول وجوہات ریکارڈ پر لانا ہوں گی۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی درخواست ازخود تاخیر کی معقول وجہ نہیں بن سکتی۔ سپریم کورٹ کے مطابق عبوری حکم چیلنج ہونے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں رکے گی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے عدالتوں کے 4 روزہ ورکنگ شیڈول کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 24 کے تحت کسی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریاست پر لازم ہے کہ شہریوں کو سستا، فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لیے ضروری پالیسی اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقول تمام ہائیکورٹس کو ارسال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹس سمیت تمام عدالتی اور انتظامی ادارے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔














