فریڈم شپ: کیا دنیا کے پانیوں پر تیرنے والا یہ تصوراتی ’شہر‘ حقیت بننے جا رہا ہے؟

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں سمندر پر تیرتے شہروں کا تصور طویل عرصے سے سائنس فکشن کہانیوں کا حصہ رہا ہے لیکن اب ایک ایسا منصوبہ دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے جو حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گھرمیں بحری جہاز گھس آیا لیکن مالک بے خبر سوتا رہا

فریڈم شپ نامی یہ منصوبہ ایک ایسے دیوہیکل بحری جہاز پر مشتمل ہے جسے دنیا کا پہلا مکمل تیرتا ہوا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کا تصور پہلی بار سنہ 1990 کی دہائی میں امریکی انجینیئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا تاہم گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران متعدد بار زیر بحث آنے کے باوجود یہ منصوبہ عملی مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔ اب فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل نامی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ فریڈم شپ میں دلچسپی اس قدر زیادہ ہے کہ ’تقریباً 3 ایسے جہازوں کی تعمیر کا جواز پیدا ہو چکا ہے‘۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو راجر گوچ کے مطابق فریڈم شپ کو حقیقت بنانے کے لیے انتظامی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے جس میں پروجیکٹ مینیجر، ڈیزائنر اور بحری تعمیرات کے ماہر سمیت 12 رکنی قیادت شامل ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کا سب سے بڑا چیلنج مطلوبہ سرمایہ کاری کا حصول ہے۔

فریڈم شپ کی مجوزہ لمبائی تقریباً ایک میل ہوگی جو اسے دنیا کے موجودہ سب سے بڑے کروز شپ سے تقریباً 10 گنا بڑا بنا دے گی۔

اب تک کا سب سے بڑا کروز شپ آئیکون آف دی سیز۔

واضح رہے کہ اس وقت ’آئیکون آف دی سیز‘ دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 365 میٹر (1,198 فٹ) ہے اور یہ 7,600 سے زائد مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عملے سمیت اس پر تقریباً 10 ہزار افراد سوار ہو سکتے ہیں۔

یہ جہاز امریکی کروز کمپنی رائل کیریبین انٹرنیشنل کی ملکیت ہے اور جدید کروز انڈسٹری کا ایک نمایاں شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: سینکڑوں کلومیٹرز مفت میں بری، بحری اور فضائی سفر کرنے والا سیہ بالآخر پکڑا گیا

فریڈم شپ منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن گیا تو یہ موجودہ سب سے بڑے کروز شپ آئیکون آف دی سیز سے تقریباً 10 گنا بڑا ہوگا۔ مجوزہ فریڈم شپ ایک میل (1.6 کلومیٹر) طویل، 30 منزلہ تیرتا ہوا شہر ہوگا جو 50 ہزار مستقل رہائشیوں، 10 ہزار مہمانوں اور 20 ہزار عملے سمیت مجموعی طور پر 80 ہزار افراد کو اپنے اندر سمو سکے گا۔

تصوراتی سمندری شہر فریڈم شپ میں باغ کی خیالی تصویر۔

جہاز کی چوڑائی تقریباً 800 فٹ اور بلندی 30 ڈیک ہوگی جبکہ اس کا ڈھانچہ مختلف حصوں میں تیار کر کے سمندر میں جوڑا جائے گا کیونکہ دنیا کا کوئی بھی شپ یارڈ اتنے بڑے جہاز کو تعمیر کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔

منصوبے کے مطابق فریڈم شپ میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے علاوہ 10 ہزار مہمان قیام کر سکیں گے جبکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پر مشتمل عملہ موجود ہوگا۔ یہ تعداد دنیا کے سب سے بڑے کروز شپ کی مجموعی گنجائش سے تقریباً 8 گنا زیادہ ہے۔

یہ دیوہیکل جہاز کسی بھی موجودہ بندرگاہ میں داخل نہیں ہو سکے گا اس لیے رہائشیوں اور مہمانوں کو چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے فریڈم شپ تک پہنچایا جائے گا۔

چونکہ فریڈم شپ ایک مکمل شہر کی طرح کام کرے گا اس لیے اس میں اسپتال، اسکول، بینک، شاپنگ سینٹرز، ریستوران، تفریحی مراکز اور دیگر تمام بنیادی سہولیات موجود ہوں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بعض سہولیات، جیسے کیسینو، وہ خود چلانا چاہتی ہے جبکہ دیگر شعبوں کے لیے نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔

راجر گوچ کے مطابق کمپنی مختلف کاروباری افراد اور اداروں کو بھی مدعو کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ فریڈم شپ میں جگہ خریدیں یا لیز پر حاصل کریں بالکل اسی طرح جیسے کسی زمینی شہر میں کاروبار قائم کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: اب آپ اپنے خواب ویڈیو کی شکل میں ڈاکیومنٹ کرسکتے ہیں، جانیے کیسے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ کئی طبی تحقیقی اداروں نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے کیونکہ سمندر میں واقع ہونے کی وجہ سے بعض سرگرمیاں روایتی ضابطہ کار اداروں کی حدود سے باہر ہو سکتی ہیں جس سے جدید طبی تحقیق کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

اگر فریڈم شپ تعمیر ہوتا ہے تو اسے ممکنہ طور پر جوہری توانائی سے چلایا جائے گا تاکہ اتنے بڑے شہر نما جہاز کی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

تاہم اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے کمپنی کو تقریباً 16 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ درکار ہوگا جو اسے دنیا کے مہنگے ترین بحری منصوبوں میں شامل کر سکتا ہے۔

فریڈم شپ کے اصل تصور کے مطابق یہ کسی ایک بندرگاہ یا ایک ملک کے ساحل پر کھڑا نہیں رہے گا بلکہ مسلسل دنیا بھر میں سفر کرتا رہے گا۔

منصوبے کے مطابق فریڈم شپ ایک ’تیرتا ہوا شہر‘ ہوگا جو مختلف براعظموں اور سمندری راستوں پر گردش کرے گا۔ چونکہ اس کا سائز اتنا بڑا ہوگا کہ یہ عام بندرگاہوں میں داخل نہیں ہو سکے گا اس لیے یہ ساحل سے کچھ فاصلے پر لنگر انداز ہوگا اور مسافروں کو چھوٹی کشتیوں یا فیری سروس کے ذریعے خشکی تک پہنچایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: فلم سازوں نے 128 سال پرانے بحری جہاز کا ملبہ دریافت کرلیا

کمپنی کے ابتدائی منصوبوں کے مطابق یہ جہاز شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا کے ساحلوں کے قریب مختلف اوقات میں سفر کرتا رہے گا اور کئی سالوں پر مشتمل عالمی روٹ اختیار کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مستقل رہائشی اپنے گھروں، دفاتر اور کاروباروں کے ساتھ اسی جہاز پر رہیں گے یعنی وہ ایک طرح سے ’دنیا کا چکر لگانے والے شہر‘ کے مکین ہوں گے۔ اس تصور میں لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے مختلف ممالک اور براعظموں کے قریب پہنچتے رہیں گے۔

البتہ یہ بات بھی اہم ہے کہ فریڈم شپ ابھی تک صرف ایک مجوزہ منصوبہ ہے۔ اس کی تعمیر شروع نہیں ہوئی اور تقریباً 16 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ درکار ہے اس لیے فی الحال یہ ایک تصوراتی منصوبہ ہی ہے لیکن اس پر کام کرنے والی کمپنی اسے حقیقت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

فریڈم شپ کے منصوبے میں لوگوں کے لیے نجی رہائشی یونٹس، اپارٹمنٹس اور لگژری پینٹ ہاؤسز شامل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ایک مکمل شہر کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس لیے اس میں مختلف آمدنی اور ضروریات کے مطابق رہائش کے کئی درجے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: سمندر کی گہرائیوں میں خلائی مخلوق کی حکمرانی، امریکی بحریہ کے سابق افسر کا حیران کن دعویٰ

ابتدائی منصوبوں کے مطابق چھوٹے اسٹوڈیو اپارٹمنٹس ایک یا 2 افراد کے لیے ہوں گے۔ درمیانے سائز کے اپارٹمنٹس خاندانوں کے لیے مختص ہوں گے اور بڑے لگژری سوئٹس اور پینٹ ہاؤسز بھی دستیاب ہوں گے جن میں سمندر کا وسیع منظر، نجی بالکونیاں اور اعلیٰ درجے کی سہولیات شامل ہوں گی۔

اگرچہ تمام گھروں کے حتمی نقشے اور سائز کبھی سرکاری طور پر مکمل تفصیل کے ساتھ جاری نہیں کیے گئے ہیں لیکن مختلف منصوبہ جاتی خاکوں کے مطابق رہائشی یونٹس تقریباً 500 مربع فٹ سے لے کر کئی ہزار مربع فٹ تک ہو سکتے ہیں۔ لگژری رہائش گاہیں عام اپارٹمنٹس سے کہیں زیادہ بڑی رکھی جانے کی تجویز دی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبے کے مطابق لوگ صرف کرائے دار نہیں ہوں گے بلکہ کئی رہائشی اپنے اپارٹمنٹس یا گھروں کے مالک بھی بن سکیں گے۔ اسی طرح دفاتر، دکانیں، ریستوران اور کاروباری جگہیں بھی خریدی یا لیز پر لی جا سکیں گی بالکل کسی عام شہر کی طرح۔

یعنی فریڈم شپ کا تصور دراصل ایک ایسے تیرتے ہوئے شہر کا ہے جہاں لوگ مستقل طور پر رہ سکیں، کام کر سکیں، بچوں کو اسکول بھیج سکیں اور دنیا بھر کا سفر بھی کرتے رہیں۔ یہ روایتی کروز شپ سے کہیں زیادہ ایک سمندری میگا سٹی کا تصور ہے۔

مزید پڑھیے: جیرالڈ فورڈ کی واپسی: دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ چھوڑ کر ’گھر‘ روانہ

اگرچہ فریڈم شپ فی الحال ایک تصوراتی منصوبہ ہے لیکن اس کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ مستقبل میں سمندری رہائش، سیاحت اور کاروبار کے انداز کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp