سائبر سیکیورٹی اور بچوں کی فلاح و بہبود کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر لگائی جانے والی سخت پابندیاں الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور انہیں ‘ڈارک ویب’ یا غیر منظم پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
یہ انتباہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی کے قانون کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری ادارے ‘ای سیفٹی کمیشن’ کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 میں سے 7 والدین نے اعتراف کیا ہے کہ پابندی کے باوجود ان کے بچے اب بھی ان ایپس تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان
برطانوی اخبار ‘میٹرو’ سے گفتگو کرتے ہوئے مالویئر بائٹس کے سیکیورٹی انٹیلیجنس تجزیہ کار پیٹر آرنٹز نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اگر نوعمر بچوں کو قانونی طور پر سوشل میڈیا سے مکمل طور پر روک دیا گیا، تو وہ متبادل کے طور پر ‘ڈارک ویب’ کا رخ کرسکتے ہیں۔
ڈارک ویب کو ٹور جیسے مخصوص براؤزرز کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جو صارف کی شناخت اور لوکیشن کو خفیہ رکھتے ہیں، اور یہ جگہ عام طور پر مجرمانہ سرگرمیوں یا غیر قانونی لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
دوسری جانب لندن کی بیز بزنس اسکول کے لیکچرر ڈاکٹر یوسف اوک کا ماننا ہے کہ یہ خطرہ موجود ضرور ہے لیکن اسے ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، کیونکہ ڈارک ویب تک رسائی کے لیے خاصی محنت درکار ہوتی ہے جو زیادہ تر بچے نہیں کریں گے، بلکہ اس کے بجائے وہ ٹیلی گرام جیسی پرائیویسی ایپس اور غیر منظم ویب سائٹس کا استعمال شروع کردیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، نئے سخت قوانین نافذ
آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی، لیکن ماہرین کے مطابق اس قانون میں کئی خامیاں اور راستے نکل آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بچے عمر کی تصدیق کے نظام کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی سیلفیز پر ڈیجیٹل طریقے سے جھریاں بنارہے ہیں، اپنے والدین کے شناختی کارڈز استعمال کررہے ہیں، یا محض غلط تاریخِ پیدائش کے ساتھ نئے اکاؤنٹس بنارہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان پابندیوں کے بعد ڈیجیٹل دنیا سے الگ نہیں ہوتے بلکہ متبادل راستے ڈھونڈ لیتے ہیں، اس لیے اب برطانیہ جیسے دیگر ممالک، جو ایسا ہی قانون لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں آسٹریلیا کے اس تجربے اور خامیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔














