امریکا کا خواب ادھورا، چین نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے منصوبے کا اعلان کردیا

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جی-7 سربراہی اجلاس کے اختتام کے فوری بعد چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، منصفانہ اور عالمی سطح پر مشترکہ استعمال کے حوالے سے اپنے مؤقف کو مزید واضح کر دیا ہے۔

بیجنگ نے اس ٹیکنالوجی کی نگرانی اور عالمی تعاون کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کے قیام کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026 کیا ہے؟

چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیجنگ ایک ’عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم‘ کے قیام کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور دنیا بھر کے تمام ممالک کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کا بنیادی مقصد انسانیت کی خدمت اور عالمی ترقی و فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔

عالمی حکمرانی پر چینی وائٹ پیپر کا اجرا

وانگ یی کا یہ اہم بیان چین کی جانب سے عالمی حکمرانی سے متعلق جاری کردہ ایک نئے وائٹ پیپر کے موقع پر سامنے آیا۔ اس دستاویزی پالیسی میں تجارتی جنگوں اور تحفظ پسند پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ اور عالمی فیصلوں میں ان کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔

چین نے خاص طور پر ’گلوبل ساؤتھ‘ (ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی ترقی پذیر معیشتوں) کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اے آئی پر امریکا اور چین کا تکنیکی معرکہ

چین کا یہ اسٹریٹجک اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا جدید ترین اے آئی ماڈلز تک غیر ملکی خاص کر حریف ممالک کی رسائی کو محدود کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی-7 اجلاس کے دوران امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور جاپان نے ایک ایسے منصوبے پر غور کیا جس کے تحت صرف ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کو ہی جدید امریکی اے آئی ماڈلز تک رسائی دی جائے گی۔

دوسری جانب چین اس امریکی اجارہ داری کو توڑنے کے لیے نسبتاً کم لاگت یا بالکل مفت (اوپن سورس) مصنوعی ذہانت ماڈلز کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جنہیں دنیا بھر میں کہیں بھی مکمل ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی میں اجارہ داری کی مخالفت

چین کے قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی کمیشن کے نائب سربراہ ژاؤ ہائی بِنگ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے میدان میں ’بند اور اجارہ دارانہ‘ طرزِ عمل کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کو مزید فعال بنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:وائب کوڈنگ سے اے آئی ایجنٹس تک: پاکستان میں مصنوعی ذہانت نوجوانوں کے لیے کیسے نئے مواقع پیدا کررہی ہے؟

چین اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک جامع عالمی اے آئی حکمرانی کے نظام کی حمایت کرتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی، تربیت اور افرادی قوت کی تیاری میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت پر کنٹرول کی جنگ

واضح رہے کہ اگرچہ گزشتہ ماہ امریکا اور چین نے مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کے لیے حفاظتی ضوابط پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اب تک اس کا کوئی تفصیلی لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔

مصنوعی ذہانت کا میدان اب صرف تکنیکی برتری کا نہیں بلکہ عالمی ضابطہ سازی اور مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی قیادت کا ایک بڑا معرکہ بن چکا ہے، جہاں چین وسیع اور مساوی رسائی کا علمبردار بن رہا ہے اور امریکہ حساس ٹیکنالوجی پر سخت کنٹرول برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی بھرتیاں کیس: سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کو نوٹس جاری کر دیا

ٹرمپ نے ایران کے 300 ارب ڈالر فنڈ تک رسائی اچھے رویے سے مشروط کر دی

سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ، یکم جولائی 2026 سے اطلاق ہوگا

ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

گھانا نے پنالٹی کے بغیر آخری لمحات میں پاناما کو شکست دے دی

ویڈیو

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

وی ایکسکلوسیو: پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش مگر حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں، انجینیئر خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ