ایک ایسے وقت میں جب عالمی جاب مارکیٹ انتہائی مسابقتی شکل اختیار کر چکی ہے اور نوکریوں کے لیے سینکڑوں درخواستیں بھیجنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملتی، ایک 31 سالہ امریکی خاتون پروفیشنل جیکی نے ایک غیر روایتی اور مشکل فیصلہ کر کے جاب مارکیٹ کے روایتی جمود کو توڑ دیا ہے۔
خاتون نے اپنی کارپوریٹ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جو بعد میں درست ثابت ہوا کیونکہ خاتون کی سابقہ کمپنی جلد ہی بند ہوگئی۔ تاہم نوکریوں کی تلاش کے دوران انہیں مارکیٹ میں شدید ہائرنگ فریز اور گھوسٹ جابز جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: جب معروف کامیڈین لہری اپنے پہلے آڈیشن میں ناکام ہو گئے
روایتی طریقوں سے ناکامی کے بعد، جیکی نے ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے اپنی سرچ کے پیرامیٹرز کو تبدیل کیا اور ایک لٹریری ایجنسی میں بلا معاوضہ انٹرن شپ حاصل کرلی۔ اس فیصلے نے اس کی لائف اسٹائل کو یکسر بدل دیا اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں فری لانس کام اور سیزنل ملازمتوں کا سہارا لینا پڑا۔
جیکی نے اعتراف کیا کہ اپنے سے 11 سال تک چھوٹے ساتھیوں کے ساتھ کام کرنا شروع میں اس کے لیے ایک عاجزانہ اور بالکل مختلف تجربہ تھا، لیکن اس نے ان نوجوان ساتھیوں کے تعاون سے مثبت توانائی حاصل کی۔
جیکی کو یہ خدشہ بھی تھا کہ انٹرن شپ کی وجہ سے اس کا سابقہ تجربہ کہیں بے وقعت نہ ہوجائے، اس لیے اس نے ایک جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ اس نے سیکھنے اور بڑے پیمانے پر نیٹ ورکنگ کرنے پر توجہ مرکوز کی۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں نوکری کے لیے غیر معمولی معاوضے کی پیشکش، نوجوان کو فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش
اپنی اس منفرد پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون نے انڈسٹری کے پیشہ ور افراد سے رابطے شروع کیے اور محض 2 ماہ کے عرصے میں 145 لوگوں تک رسائی حاصل کر کے 80 سے زیادہ نیٹ ورکنگ کالز مکمل کیں۔
ان کی اس فعال اور غیرمعمولی حکمتِ عملی نے آخر کار رنگ دکھایا اور انٹرن شپ کے اختتام پر انہیں ایک سے زیادہ ملازمتوں کی بہترین پیشکشیں ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے لٹریری ایجنٹ کے طور پر اپنے خوابوں کی نوکری کو قبول کرلیا۔














