وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں ایبولا وائرس کی نئی لہر نے ایک بار پھر صحت کے عالمی خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ اور جنگلی جانوروں کے گوشت کے استعمال کے درمیان ممکنہ تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایبولا کیسز کی اطلاعات، صحت کے ناقص نظام کا پول کھل گیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو اور وسطی و مغربی افریقہ کے مختلف علاقوں میں جنگلی جانوروں کا گوشت (وائلڈ میٹ) نہ صرف خوراک کا اہم حصہ ہے بلکہ یہ مقامی ثقافت اور روایات میں بھی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ کنشاسا کے مصروف مسینا مارکیٹ میں گاہک بندروں، ہرنوں، بڑے چوہوں اور دیگر جنگلی جانوروں کے گوشت کی خریداری کرتے ہیں، جو اکثر کھلے عام نہیں بلکہ خفیہ طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس کی موجودہ وبا کانگو کے مشرقی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس میں اب تک 220 سے زائد اموات اور ایک ہزار سے زیادہ مشتبہ کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس ممکنہ طور پر جنگلی جانوروں، خصوصاً چمگادڑوں اور بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
افریقی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ماہر ڈاکٹر ٹولبرٹ نیونسواہ کے مطابق انسان، جانور اور ماحول کے درمیان قریبی رابطہ ایسے وائرسز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شکاریوں اور گوشت کی تیاری کے دوران انفیکشن انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایبولا کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا، یوگنڈا سے آنے والی خاتون قرنطینہ منتقل
ماہرین صحت کے مطابق ایبولا عام طور پر براہِ راست خوراک سے نہیں پھیلتا، لیکن متاثرہ جانوروں کے شکار، ذبح اور گوشت تیار کرنے کے عمل میں وائرس انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک بار انسان متاثر ہو جائے تو بیماری جسمانی رطوبتوں کے ذریعے تیزی سے دوسرے افراد میں پھیلتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کانگو کے وسیع جنگلاتی خطے “کانگو بیسن” میں سالانہ لاکھوں ٹن جنگلی گوشت استعمال کیا جاتا ہے، جو مقامی آبادی کے لیے پروٹین کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی عمل حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق اگرچہ جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کم ہوتی ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں، جیسا کہ 2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں ایبولا کی بڑی وبا کے دوران دیکھا گیا۔

صحت کے ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹیز میں آگاہی مہمات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ نامعلوم یا مردہ جانوروں کا گوشت استعمال کرنا سنگین صحت کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
کنشاسا کے مسینا مارکیٹ میں اب بھی جنگلی گوشت کی فروخت جاری ہے، جہاں تاجر پائتھن، بڑے چوہوں اور دیگر جانوروں کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔ ایک تاجر کے مطابق یہ ان کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس روایت کے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔













