زمین کی طرف بڑھتی ہوئی رصد گاہ کو بچانے کے لیے ناسا کا غیر معمولی آپریشن

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ‘ناسا’ نے خلا میں موجود اپنی ایک انتہائی اہم ترین رصد گاہ کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک ہنگامی اور غیر معمولی ریسکیو مشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2004 میں خلا میں بھیجی جانے والی ‘نیل گہرلز سوئفٹ آبزرویٹری’ تیزی سے زمین کی طرف گر رہی ہے اور اس کا مدار 600 کلومیٹر سے کم ہو کر اب صرف 370 کلومیٹر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سال 2026 کے اختتام سے قبل ہی زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 8  سالہ بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا بھی فراخدلانہ اعتراف

 سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ستاروں کے پھٹنے، گاما ریز، ایکس ریز اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کا مشاہدہ کرنے والی اس منفرد دوربین کی تباہی سے کائناتی دنیا پر تحقیق کرنے والے اداروں کو ایک بہت بڑا دھچکا لگے گا۔

ماہرین کے مطابق سورج کے 11 سالہ چکر کے شدید ترین مرحلے (سولر میکسیمم) کی وجہ سے زمین کی بالائی فضا پھیل گئی ہے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رگڑ نے سوئفٹ ٹیلی اسکوپ کو وقت سے پہلے نیچے دھکیل دیا ہے حالانکہ اسے سال 2030 تک فعال رہنا تھا۔

اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناسا نے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ‘کیٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز’ کو 30 ملین ڈالر کا معاہدہ دیا ہے جس نے ریکارڈ 7 ماہ کی مدت میں ایک خاص ’لنک‘ خلائی جہاز تیار کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کا دلچسپ ٹول: جنگلات، پہاڑوں پر اپنا نام لکھا دیکھیں

یہ 400 کلوگرام وزنی خلائی جہاز پیگاسس ایکس ایل راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا جو اپنے تین روبوٹک ہاتھوں کی مدد سے سوئفٹ ٹیلی اسکوپ کو جکڑ لے گا۔

سائنسی منصوبے کے تحت یہ ریسکیو جہاز اگلے 6 ہفتوں کے دوران سوئفٹ ٹیلی اسکوپ کو بتدریج اوپر لے جائے گا اور اسے دوبارہ اس کے پرانے 600 کلومیٹر والے محفوظ مدار میں بحال کر دے گا۔

خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ جیسی لچک اور انتہائی تیز رفتاری سے ردعمل دینے والی کوئی دوسری دوربین اس وقت دنیا کے پاس موجود نہیں ہے جو گاما ریز کی نشاندہی کے محض 2 منٹ کے اندر اپنے سینسرز اس طرف موڑ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کا خلائی جہاز خلابازوں کے لیے سائنسی آلات لے کر عالمی خلائی اسٹیشن روانہ

 اس تاریخی دوربین نے اپنے 20 سالہ سفر میں کائنات کے کئی بڑے دھماکوں اور ستاروں کے ٹکراؤ کا سراغ لگایا ہے جس میں سال 2022 میں ریکارڈ ہونے والا کائنات کا اب تک کا سب سے روشن دھماکہ ’بوٹ‘  بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار